امریکہ کا سعودی عرب کو 24 ارب ڈالر کے F-35 طیارے بیچنے کا اعلان
پاکستان کے قریبی دوست ملک کی طاقت میں اضافہ خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بائیڈن اور ٹرمپ کے عبوری دور میں ایک بڑا دفاعی فیصلہ سامنے آیا ہے، واشنگٹن نے ریاض کو دنیا کی جدید ترین اسٹیلتھ ٹیکنالوجی دینے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
The report is based on consistent official notifications from the US State Department across multiple international and regional outlets. The analytical tag reflects the inclusion of documented congressional concerns regarding technological espionage and regional military balance.

"اس ڈیل سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور وہ امریکی افواج کے ساتھ مل کر مستقبل کے خطرات کا بہتر مقابلہ کر سکے گا۔"
تفصیلی جائزہ
یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی ہے، کیونکہ اسرائیل کے بعد سعودی عرب F-35 رکھنے والی دوسری علاقائی طاقت بن جائے گا۔ اس کا مقصد واضح طور پر ایران اور یمن کے حوثی باغیوں کو روکنا ہے جنہوں نے حال ہی میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی حلقوں میں اس ڈیل پر تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ بعض حکام کا خیال ہے کہ سعودی عرب کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی وجہ سے امریکہ کی یہ 'خفیہ فوجی ٹیکنالوجی' چوری ہو سکتی ہے۔ کانگریس کے 30 روزہ جائزے میں سیکیورٹی اور جاسوسی کے یہی خدشات بحث کا مرکز رہیں گے۔
پس منظر اور تاریخ
دہائیوں سے امریکہ کی پالیسی رہی ہے کہ اسرائیل کو عرب پڑوسیوں پر فوجی برتری حاصل رہے، اسی لیے اب تک صرف اسرائیل کے پاس F-35 طیارے تھے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے ان طیاروں کے حصول کی کوشش کر رہا تھا، جسے اکثر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ 2019 میں ترکی کو روسی میزائل سسٹم خریدنے پر F-35 پروگرام سے نکال دیا گیا تھا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے روس اور چین کے ساتھ دفاعی تعلقات پر کتنا حساس ہے۔
عوامی ردعمل
اس فیصلے کو ایک محتاط اسٹریٹجک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکومت اسے خطے میں استحکام کا ذریعہ قرار دے رہی ہے جبکہ ناقدین ٹیکنالوجی کی چوری کے حوالے سے پریشان ہیں۔
اہم حقائق
- •امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 24.3 ارب ڈالر کے 48 F-35 Lightning II جنگی طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
- •اس پیکیج میں طیاروں کے 49 انجن، الیکٹرانک وارفیئر سپورٹ اور سعودی فضائیہ کے لیے لاجسٹک ٹریننگ بھی شامل ہے۔
- •معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے امریکی کانگریس کے پاس اس پر اعتراض کرنے کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔