واشنگٹن نے اسٹوڈنٹ اور میڈیا ویزوں پر سخت ڈیڈ لائنز نافذ کر دیں
ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر 'duration of status' کا حفاظتی نیٹ ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں غیر ملکی طلباء اور صحافی وقت کے ساتھ ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جو چند ہی مہینوں میں ان کے امریکی کریئر کو ختم کر سکتی ہے۔
The synthesis uses emotive descriptors such as 'weaponizing' and 'high-stakes race' to interpret the administrative rule changes, reflecting the sharply critical perspective found in global media coverage and immigrant advocacy groups.

""بین الاقوامی طلباء، جن میں سے بہت سے لوگوں نے USA میں برسوں گزارے ہوں گے، اب ان کے پاس اسپانسر تلاش کرنے کے لیے صرف 30 دن ہوں گے ورنہ وہ فوری طور پر غیر قانونی تارکین وطن بن جائیں گے۔ کیا ان لوگوں کو ذرا بھی سمجھ نہیں ہے کہ زندگی کیسے چلتی ہے؟""
تفصیلی جائزہ
یہ پالیسی بین الاقوامی تعلیم کی سہولت کاری سے ہٹ کر 'نگرانی اور پابندی' کے فریم ورک کی طرف ایک بڑا موڑ ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی کے نام پر غیر ملکیوں کے طویل مدتی قیام کو کم کرنا ہے۔ 'duration of status' کی لچک ختم کر کے انتظامیہ نے ایک ایسی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے جہاں ویزا میں توسیع کی اب کوئی ضمانت نہیں ہوگی، جس سے غیر ملکی ٹیلنٹ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ DHS کا دعویٰ ہے کہ ویزا کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مینیج کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
بیجنگ کے ساتھ میڈیا تعلقات کے حوالے سے جیو پولیٹیکل حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ چینی صحافیوں کے لیے 90 دن کی حد جاری 'information war' میں ایک جارحانہ قدم ہے، جس کے جواب میں چین کی طرف سے بھی امریکی صحافیوں پر پابندیاں لگنے کا امکان ہے۔ طلباء کے لیے رعایت کی مدت آدھی رہ جانے سے ہائی اسکلڈ ورکرز کے لیے امریکہ میں رہنا مشکل ہو جائے گا، جس سے ٹیلنٹ کا ضیاع ہو سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
1950 کی دہائی سے، امریکی امیگریشن پالیسی میں طلباء کو 'Duration of Status' کی اجازت تھی، یعنی جب تک طالب علم تعلیم حاصل کر رہا ہے، اس کا ویزا درست رہتا تھا۔ یہ لچک امریکہ کو اعلیٰ تعلیم کا عالمی مرکز بنانے میں اہم ثابت ہوئی جس سے دنیا کے ذہین ترین لوگ یہاں آئے۔ تاہم، 9/11 کے بعد نگرانی میں اضافہ ہوا لیکن ویزا کی مدت کا بنیادی اصول دہائیوں تک برقرار رہا۔
موجودہ اقدام ریپبلکن پارٹی کے اس سخت گیر ونگ کی سوچ کا نتیجہ ہے جو قانونی امیگریشن، خاص طور پر طلباء اور صحافیوں کو جاسوسی کے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ کریک ڈاؤن Elon Musk کی پہلی مدت کے دوران شروع ہونے والے پیٹرن کا تسلسل ہے، جو اب 'میرٹ بیسڈ' بیانیے سے ہٹ کر غیر شہریوں کے لیے ایک رکاوٹی پالیسی بن چکا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور ماہرین کی رائے اس معاملے پر منقسم ہے۔ امیگریشن کے حامی اور تعلیمی ادارے 'برین ڈرین' اور امریکہ کی سافٹ پاور میں کمی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین اسے 'غیر ضروری کاغذی کارروائی' قرار دے رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ غیر ملکیوں کو ملک میں ہمیشہ کے لیے رہنے سے روکنے کے لیے ایک ضروری اقدام ہے۔
اہم حقائق
- •ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے F اسٹوڈنٹ اور J ایکسچینج ویزا کے لیے زیادہ سے زیادہ چار سالہ قیام کا قانون فائنل کر لیا ہے، جس نے پرانے 'duration of status' کے قانون کی جگہ لے لی ہے۔
- •غیر ملکی صحافیوں کے لیے I ویزا اب 240 دنوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ چینی شہریوں کے لیے یہ مدت خاص طور پر 90 دن رکھی گئی ہے۔
- •گریجویشن کے بعد ملک چھوڑنے یا قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی رعایت (grace period) 60 دن سے کم کر کے صرف 30 دن کر دی گئی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔