اتراکھنڈ NEP فریم ورک کے تحت بھارت کی چھٹی مکمل طور پر خواندہ ریاست قرار
'وکست بھارت' 2047 کے ہدف کی جانب ایک بڑی تزویراتی پیشرفت کرتے ہوئے، اتراکھنڈ نے National Education Policy کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور نسل در نسل چلی آنے والی رکاوٹوں کو ختم کر کے ملک کی چھٹی مکمل طور پر خواندہ ریاست بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
This report is primarily derived from official state government announcements and syndicated news feeds, reflecting a narrative closely aligned with national development objectives and regional administrative achievements.
""اس طرح کی اجتماعی کوششیں 2047 تک 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ بھارت) کے خواب کو حقیقت بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ مزید یہ کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پوری لگن سے کام جاری رکھے گی کہ ڈیجیٹل خواندگی، مالیاتی آگاہی، مسلسل تعلیم اور زندگی گزارنے کی مہارتیں ہر شہری تک پہنچیں۔""
تفصیلی جائزہ
یہ کامیابی Pushkar Singh Dhami انتظامیہ کے لیے ایک بڑی پالیسی فتح ہے، جس نے ریاست کے تعلیمی ڈھانچے کو مرکزی حکومت کی National Education Policy 2020 کے مطابق ڈھال دیا ہے۔ 98 فیصد کی حد عبور کر کے، اتراکھنڈ صرف اعداد و شمار کے پیچھے نہیں بھاگ رہا بلکہ وفاقی ترقیاتی گرانٹس حاصل کرنے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے خود کو تزویراتی طور پر مضبوط بنا رہا ہے۔
19 جون کو کابینہ کی منظوری کے بعد اس اعلان کی تیزی، 'وکست بھارت' 2047 کے ویژن کی جانب عملی پیشرفت دکھانے کی سیاسی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ حکومت اسے ایک بڑا 'سنگ میل' قرار دے رہی ہے، لیکن اصل امتحان خواندگی کو 'روزگار کے قابل مہارتوں' میں تبدیل کرنا ہے۔ ناقدین اکثر صرف دستخط کرنے کی صلاحیت اور جدید جاب مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
بھارت میں خواندگی کا سفر تاریخی طور پر ناہموار رہا ہے، جہاں 2011 کی مردم شماری میں کیرالہ اور دیگر شمالی علاقوں کے درمیان بڑے فرق سامنے آئے تھے۔ National Education Policy 2020 کو ان پرانی ناہمواریوں کو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس میں 'ULLAS' جیسے اقدامات کے ذریعے ان لاکھوں بالغوں کو نشانہ بنایا گیا جو ماضی میں اسکول نہیں جا سکے تھے۔
2000 میں اپنے قیام کے بعد سے، اتراکھنڈ نے تعلیم کو علاقائی ترقی کے لیے بنیادی محرک کے طور پر دیکھا ہے۔ ہمالیہ کے مشکل جغرافیائی حالات کی وجہ سے یہاں بھاری صنعتیں لگانا مشکل ہے، اس لیے ریاست نے ہماچل پردیش اور سکم کی طرح انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ انتہائی فاتحانہ اور حکومتی کوششوں پر مرکوز ہے، جو حکومتی اقدامات اور عوامی شرکت کے کامیاب اشتراک کو اجاگر کرتا ہے۔
اہم حقائق
- •اتراکھنڈ نے باضابطہ طور پر 98 فیصد سے زیادہ خواندگی کی شرح حاصل کر لی ہے، جو مرکزی وزارت تعلیم کے مقرر کردہ معیارات کے مطابق ہے۔
- •میزورم، گوا، تریپورہ، ہماچل پردیش اور سکم کے بعد اتراکھنڈ یہ اعزاز حاصل کرنے والی بھارت کی چھٹی ریاست ہے۔
- •یہ سنگ میل National Education Policy 2020 کے تحت 'ULLAS' پروگرام کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔