ونٹن سرف کا آخری ایکٹ: انٹرنیٹ کے بانی ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ AI ان کی وراثت کو ایک نئی شکل دے رہا ہے
وہ شخص جس نے کمپیوٹرز کو ایک ہی زبان بولنا سکھائی، اب اپنی ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہا ہے۔ ہم ایک ایسے نئے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں اوپن کنکشن کا ان کا وژن خود مختار AI (مصنوعی ذہانت) کے عروج کی وجہ سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔
This report is tagged as Fact-Based for its accurate synthesis of public records and direct quotes, while the Reverent tag acknowledges the retrospective and celebratory tone common in legacy-focused technology reporting.

""AI کا 'ایجنٹک ماڈل'، جس میں مختلف ذرائع کے متعدد ایجنٹس ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، سسٹم کو مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کے لیے انٹر آپریبلٹی اور اسٹینڈرڈائزیشن پر مجبور کر دے گا۔""
تفصیلی جائزہ
Vinton Cerf کی ریٹائرمنٹ انٹرنیٹ کے 'تبلیغی' دور کے اختتام کی علامت ہے۔ Google میں بیس سال تک ان کا کام ایک جڑی ہوئی دنیا کی وکالت کرنا تھا؛ اب چونکہ پوری دنیا آن لائن ہے، چیلنج انسانوں کو جوڑنے سے بدل کر خود مختار سافٹ ویئر کو جوڑنے کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی اور بند AI ماڈلز کا موجودہ رجحان برقرار نہیں رہ سکتا۔ AI 'ایجنٹس' کو کارآمد بنانے کے لیے انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر ہم آہنگ ہونا پڑے گا، جس سے ٹیک کمپنیاں مجبوراً اپنے بند نظام چھوڑ کر انہی اوپن اسٹینڈرڈز کو اپنائیں گی جنہوں نے اصل انٹرنیٹ تخلیق کیا۔
'Open Frontier' کانفرنس کے ماہرین کے مطابق اصل بحث مستقبل کی ویب کی 'کمپوز ایبلٹی' پر ہے۔ جہاں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ AI ماڈلز کے آپس میں بات کرنے کے لیے عام انسانی زبان کافی ہوگی، وہیں Vinton Cerf کا ماننا ہے کہ استحکام کے لیے باقاعدہ تکنیکی معیارات ضروری ہیں۔ یہ بحث 1970 اور 80 کی دہائی کی 'پروٹوکول جنگوں' کی یاد دلاتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی بھلے ہی ڈیٹا پیکٹس سے پیچیدہ نیورل نیٹ ورکس تک پہنچ گئی ہو، لیکن ایک مشترکہ اور غیر مرکزی زبان کی ضرورت آج بھی انٹرنیٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
پس منظر اور تاریخ
انٹرنیٹ کا آغاز کسی تجارتی کاروبار کے طور پر نہیں بلکہ 1960 اور 70 کی دہائی میں امریکی محکمہ دفاع کے ARPA کے تجرباتی منصوبوں سے ہوا تھا۔ اس وقت مختلف نیٹ ورکس 'جزیروں' کی طرح تھے جو آپس میں ڈیٹا شیئر نہیں کر سکتے تھے۔ Vinton Cerf اور Robert Kahn نے 'TCP/IP' بنا کر اس میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان کا ڈیزائن جان بوجھ کر غیر مرکزی رکھا گیا تھا تاکہ کوئی بھی حکومت یا کمپنی عالمی مواصلات پر قبضہ نہ کر سکے، اور اسی نظریے نے 1990 کی دہائی میں ورلڈ وائیڈ ویب کے پھیلاؤ کو ممکن بنایا۔
Vinton Cerf نے 2005 میں Google جوائن کیا، جب انٹرنیٹ ڈیسک ٹاپ سے نکل کر ہر ہاتھ میں پہنچ رہا تھا۔ ان کے دور میں موبائل ویب، کلاؤڈ اور اب جنریٹو AI کا عروج دیکھا گیا۔ ان تمام تبدیلیوں کے دوران، وہ 'نیٹ نیوٹرلٹی' اور اوپن اسٹینڈرڈز کے بڑے حامی رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ انڈسٹری کو یاد دلاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ کوئی بھی، کہیں بھی، کسی مرکزی اتھارٹی سے اجازت لیے بغیر اس کی بنیاد پر نئی چیزیں بنا سکے۔
عوامی ردعمل
Vinton Cerf کی ریٹائرمنٹ پر ادارتی ردعمل میں گہری عقیدت اور ایک 'دور کے خاتمے' کا احساس پایا جاتا ہے۔ پروفیسر ڈیو پیٹرسن جیسے ساتھیوں نے اعتراف کیا ہے کہ جدید تہذیب ان کے بنائے ہوئے پروٹوکولز پر کھڑی ہے۔ ٹیک ماہرین کے درمیان اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا وہ 'اوپن فرنٹیئر' جس کی Vinton Cerf نے حمایت کی تھی، AI کی مرکزیت کے دور میں بچ پائے گا یا نہیں، تاہم خود ان کا پرامید نظریہ ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔
اہم حقائق
- •'فادر آف دی انٹرنیٹ' کہلائے جانے والے Vinton Cerf جولائی 2026 کے اوائل میں Google کے وائس پریذیڈنٹ اور چیف انٹرنیٹ ایونجلسٹ کے عہدے سے باضابطہ طور پر ریٹائر ہو جائیں گے۔
- •Vinton Cerf اور ان کے ساتھی Robert Kahn بنیادی طور پر 'TCP/IP' کے معمار ہیں، یہ وہ نیٹ ورکنگ پروٹوکولز ہیں جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹر نیٹ ورکس کو ایک دوسرے سے رابطے کی اجازت دیتے ہیں۔
- •'Open Frontier' کانفرنس میں اپنے آخری عوامی خطاب کے دوران، Vinton Cerf نے پیش گوئی کی کہ 'ایجنٹک AI' کی اگلی لہر کے لیے انہی معیاری اور انٹر آپریبل پروٹوکولز کی ضرورت پڑے گی جو انہوں نے 1970 کی دہائی میں تیار کیے تھے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔