WhatsApp نے پرائیوسی کی دنیا میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنی پہچان کو ہارڈویئر سے الگ کر دیا
Meta بالآخر WhatsApp پر فون نمبر کی اجارہ داری ختم کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسی تزویراتی تبدیلی ہے جو بظاہر پرائیوسی کے لیے ہے، لیکن اس کے پیچھے میٹا ڈیٹا (metadata) پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے۔
The report synthesizes official corporate announcements with independent academic critiques regarding metadata tracking, allowing readers to distinguish between new privacy features and broader platform data practices.

"پہلی بار رابطہ کرنے کے لیے لوگوں کو آپ کا بالکل درست یوزر نیم جاننا ضروری ہو گا۔"
تفصیلی جائزہ
یہ اقدام دراصل Signal جیسی پرائیوسی ایپس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا جواب ہے جنہوں نے 2024 میں یوزر نیم فیچر متعارف کرایا تھا۔ سم کارڈ (SIM card) سے وابستگی ختم ہونے سے ان لوگوں کو آسانی ہو گی جو اپنی پہچان خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، یہ صرف عوام کی بھلائی کے لیے نہیں ہے بلکہ اس طرح Meta اپنے تمام پلیٹ فارمز کو آپس میں جوڑ کر ایک عالمی ڈیجیٹل آئی ڈی (ID) بنانا چاہتی ہے۔
جہاں Al Jazeera اور BBC اسے صارفین کی حفاظت کے لیے بڑی جیت قرار دے رہے ہیں، وہیں آکسفورڈ کی پروفیسر Carisa Veliz کا کہنا ہے کہ میسج تو انکرپٹڈ ہیں لیکن Meta اب بھی میٹا ڈیٹا جمع کرتا ہے تاکہ اشتہارات سے پیسہ کما سکے۔ یہ واضح تضاد ہے: ایک طرف یوزر نیم کو پرائیوسی کہا جا رہا ہے، دوسری طرف ڈیٹا نکالنے کا سسٹم ویسے ہی کام کر رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
2014 میں Facebook کی جانب سے 19 ارب ڈالر میں خریدے جانے کے بعد سے WhatsApp پوری دنیا میں رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ 2016 میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے نفاذ نے ڈیجیٹل حقوق کی دنیا میں انقلاب برپا کیا، لیکن اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ڈیٹا تک رسائی پر تنازعات بھی پیدا ہوئے۔
یوزر نیم پر منتقلی 'صرف موبائل' والے اس دور کا خاتمہ ہے جو سمارٹ فون میسجنگ کی پہچان رہا ہے۔ ماضی میں فون نمبر ایک تصدیقی ذریعہ تھا، لیکن اب ہینڈل بیسڈ سسٹم پر جانا پرانے دور کے IRC یا AIM کی یاد دلاتا ہے، جو آج کے جدید دور کے سائبر حملوں اور جعلی پہچان کے خطرات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
عوامی ردعمل
تجزیہ کاروں کے درمیان محتاط خوشی اور گہرے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جہاں ٹیک میڈیا اسے ایک ضروری تبدیلی قرار دے رہا ہے، وہیں پرائیوسی کے ماہرین میٹا کی پالیسیوں پر تاحال معترض ہیں۔ عام عوام میں اپنے پسندیدہ یوزر نیم حاصل کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جہاں پرائیوسی سے زیادہ سماجی رتبہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •WhatsApp نے عالمی سطح پر اپنے تین ارب صارفین کو 3 سے 35 حروف پر مشتمل منفرد یوزر نیم (usernames) رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
- •اس نئے سسٹم کے تحت صارفین اپنا فون نمبر چھپا سکیں گے اور نئے رابطوں کے لیے صرف یوزر نیم کی ضرورت ہو گی۔
- •Meta نے ایک خاص ترتیب بنائی ہے جس کے تحت بڑے نامور افراد، حکومتی اداروں اور Instagram اور Facebook کے بزنس اکاؤنٹس کو پہلے اپنا نام محفوظ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔