بحیرہ احمر کے قریب حوثی باغیوں کی پیش قدمی، یمن میں ہزاروں افراد کی نقل مکانی
یمن کی تازہ لڑائی سے عالمی تجارت اور تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔
Bab al-Mandab کی حساس گزرگاہ ایک بار پھر میدانِ جنگ بن گئی ہے جہاں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ افواج کے درمیان لڑائی نے امن کو تباہ کر دیا ہے، جس کے بعد ہزاروں لوگ سمندری راستے سے فرار ہونے پر مجبور ہیں۔
The draft effectively synthesizes international on-the-ground reporting from the BBC with regional diplomatic context from ARY News. It notes the minor discrepancies in casualty and displacement numbers between the WHO, IOM, and UN tracking systems dynamically without endorsing one over the other.

"وہ جہازوں کا شور تھا، دھماکوں کی آوازیں! ہم صرف اپنے بچوں کی خاطر وہاں سے بھاگے۔ ہمارا دل جلتا ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کس طرف سے ہیں، وہ ہر جگہ بمباری کر رہے ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
یہ کشیدگی 2022 میں اقوامِ متحدہ (UN) کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ ARY News کے مطابق ترکی، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے، اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے پاکستان میں ایک ابتدائی معاہدہ ہوا تھا جو بعد میں ناکام ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اب بھی مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں ایک خاموش مگر اہم مقام رکھتا ہے۔
ہلاکتوں اور بے گھری کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے؛ ARY News نے WHO اور IOM کے حوالے سے 674 اموات بتائی ہیں، جبکہ BBC کی توجہ ساحلی علاقوں کے 1 لاکھ 20 ہزار متاثرین پر ہے۔ Bab al-Mandab پر کنٹرول حاصل کر کے حوثی عالمی جہاز رانی کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے امریکہ اور چین جیسی عالمی طاقتیں براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو سکتی ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
یمن کی خانہ جنگی 2014 میں شروع ہوئی جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ اس کے جواب میں 2015 میں سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے مداخلت کی۔ یہ تنازع اب دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
تاریخی طور پر Bab al-Mandab ایک حساس مقام رہا ہے کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس خطے میں استحکام بہت ضروری ہے تاکہ خلیج میں مقیم پاکستانی ورکرز اور تیل کی درآمدات محفوظ رہ سکیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی ماضی کی سفارتی ملاقاتیں خطے میں لگی آگ کو بجھانے کی کوششوں کا حصہ رہی ہیں۔
عوامی ردعمل
یمنی عوام میں شدید انسانی پریشانی اور خوف پایا جاتا ہے، جبکہ ترکی جیسے علاقائی ممالک سفارتی کوششوں میں تیزی لا رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کے ساتھ نہیں ہیں اور صرف تشدد سے بچنا چاہتے ہیں۔
اہم حقائق
- •حالیہ لڑائی کی وجہ سے 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد یمنی باشندے بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے ہزاروں بحیرہ احمر پار کر کے جبوتی (Djibouti) میں پناہ لے رہے ہیں۔
- •حوثی تحریک نے Bab al-Mandab کی طرف تیزی سے فوجی پیش قدمی شروع کر دی ہے، جو عالمی سمندری تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔
- •سعودی عرب نے سینکڑوں فضائی حملوں سے جواب دیا ہے، جبکہ حوثیوں نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے سعودی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔