ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Health28 جون، 2026Fact Confidence: 95%

ایک نسل کا بوجھ: نوجوان نسل میں موٹاپے کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے؟

آج کل کے جدید گھروں کے کچن میں، جدوجہد کرنے والے نوجوانوں اور والدین کی ایک ایسی نسل بسی ہوئی ہے جو ڈیجیٹل دور کی دوڑ اور سستی خوراک کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔ بدقسمتی سے، وہی سستی خوراک ان کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedSystemic-Critical

This report is based on clinical data from The Lancet and reporting from the BBC. It focuses on the socio-economic and environmental drivers of public health trends, shifting the narrative from individual responsibility to systemic and economic factors.

ایک نسل کا بوجھ: نوجوان نسل میں موٹاپے کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے؟
""بچوں کی دیکھ بھال، ورک فرام ہوم (Working from home) کا دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی میں صحت بخش خوراک خریدنا، ان سب وجوہات نے صحت مند طرز زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔""
Robert Fletcher (Lead researcher Robert Fletcher discusses the impact of the pandemic and economic pressures on the dietary habits of young families.)

تفصیلی جائزہ

نوجوانوں میں موٹاپے کا یہ اضافہ ایک ایسے نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے جہاں بجٹ کے بارے میں فکر مند نسل کے لیے 'آسان ترین راستہ' خراب صحت کی طرف جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وہ پہلی نسل ہے جو ایک مکمل 'obesogenic environment' میں پلی بڑھی ہے، جہاں ڈیجیٹل ایپس اور سوشل میڈیا پر غیر صحت بخش کھانوں کی اشتہاری مہمات نے ان کی عادات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ BBC کی رپورٹ کے مطابق اس رفتار میں اضافہ 'غیر متوقع' ہے، لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب اچھی صحت ایک ایسی لگژری بنتی جا رہی ہے جس کا تعلق مالی استحکام سے ہے۔

محروم علاقوں اور غیر سفید فام آبادیوں میں یہ فرق اور بھی زیادہ نمایاں ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ صرف انفرادی انتخاب کا نہیں بلکہ ماحول کی بناوٹ کا مسئلہ ہے۔ سارہ پرمین (Sarah Perman) جیسے ماہرین کے مطابق، بچپن ہی سے گلی محلوں کی دکانوں اور سپر مارکیٹوں میں غیر صحت بخش اشیاء کی بھرمار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی کے اس دور میں متوازن غذا کے بجائے زیادہ چکنائی اور چینی والی خوراک کھانا سستا اور آسان ہو گیا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

انگلینڈ میں صحت کی موجودہ صورتحال گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی خوراک کے نظام میں آنے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں UK میں فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹس کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اشتہارات کے قوانین نرم کیے گئے۔ اس دور میں کھانوں کی مقدار (portions) کو بڑھایا گیا اور مصروف خاندانوں کے لیے پراسیسڈ فوڈ کو روزمرہ کی غذا کا حصہ بنا دیا گیا۔

COVID-19 کی وبا نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا، جس سے جسمانی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور ڈیجیٹل فوڈ ڈیلیوری سروسز پر انحصار بڑھ گیا۔ وہ نوجوان جو اب 20 اور 30 سال کی عمر میں ہیں، ان کے لیے یہ وبا کیریئر کے آغاز اور والدین بننے کے اہم مرحلے پر آئی، جس نے سست طرز زندگی اور سہولت پر مبنی کھانے کی عادات کو پکا کر دیا۔

عوامی ردعمل

عوامی صحت کے حامی اور طبی محققین گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، اور ان اعداد و شمار کو مستقبل میں ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے ایک 'ٹائم بم' کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر اس صورتحال کا ذمہ دار انفرادی قوت ارادی کے بجائے اس نظام کو ٹھہرایا جا رہا ہے جو غیر صحت بخش فوڈ انڈسٹری کے منافع کو ترجیح دیتا ہے۔

اہم حقائق

  • انگلینڈ میں 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں موٹاپے کی تشخیص کے نئے کیسز میں 2019-20 اور 2024-25 کے درمیان تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
  • میڈیکل جریدے The Lancet میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق، اگرچہ 40 اور 50 سال کی عمر کے لوگوں میں موٹاپا اب بھی سب سے زیادہ ہے، لیکن اس کے بڑھنے کی رفتار 20 اور 30 سال کی عمر کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ ہے۔
  • Food Foundation کی تحقیق کے مطابق، UK میں صحت بخش خوراک غیر صحت بخش اور پراسیسڈ (processed) متبادل کے مقابلے میں فی کیلوری دو گنا زیادہ مہنگی ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 England📍 London

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

The Weight of a Generation: Why Young Adults are Facing an Obesity Surge - Haroof News | حروف