سب انسپیکٹر مریم خالد کی آنکھ اس وقت کھلی جب اس کے فون کی سکرین نیلی روشنی سے چمکی۔ رات کے تین بج رہے تھے۔ ایک نامعلوم نمبر سے میسج آیا تھا: 'کلفٹن کے ساحل پر آؤ۔ اکیلی۔ وقت ختم ہو رہا ہے۔' مریم نے سکرین کو گھورا۔ یہ وہی انداز تھا — وہی بے رحم اختصار — جو پچھلے تین ہفتوں سے کراچی پولیس کو پاگل کر رہا تھا۔
تین ہفتے پہلے پہلا واقعہ ہوا تھا۔ ایک نامور سافٹ ویئر انجینئر طارق رضوان اپنے دفتر میں بے ہوش پایا گیا۔ اس کے لیپ ٹاپ کی سکرین پر صرف ایک جملہ تھا: 'تم نے غلط کوڈ لکھا۔' طارق کو کسی نے زہر نہیں دیا تھا، کسی نے مارا نہیں تھا — لیکن وہ تین دن تک ہوش میں نہیں آیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ شدید ذہنی صدمے کا نتیجہ ہے۔
پھر دوسرا واقعہ ہوا۔ ایک بینک مینیجر نسرین آپا اپنے گھر میں کمرے کے کونے میں سمٹی ہوئی ملیں۔ ان کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں اور وہ بار بار دہرا رہی تھیں: 'اس نے سب دیکھ لیا، اس نے سب دیکھ لیا۔' ان کے فون میں ایک ویڈیو تھی جو ان کی نجی زندگی کے ایسے لمحات دکھا رہی تھی جو کسی کیمرے نے ریکارڈ نہیں کیے تھے — کم از کم کسی ایسے کیمرے نے نہیں جو انہیں نظر آتا۔
مریم نے اپنی جیکٹ اٹھائی اور گاڑی کی چابی پکڑی۔ کراچی کی سڑکیں رات کو ایک مختلف شہر بن جاتی ہیں — خاموش، سنسان، اور سمندر کی نمکین ہوا میں لپٹی ہوئی۔ کلفٹن کا ساحل بیس منٹ کی مسافت پر تھا۔ گاڑی چلاتے ہوئے اس نے اپنے ساتھی انسپیکٹر فیصل کو فون کیا۔ 'مجھے ساحل پر بلایا گیا ہے۔ اگر صبح تک میری خبر نہ آئے تو یہ نمبر ٹریس کرنا۔'
ساحل پر پہنچ کر اسے ریت میں ایک لیپ ٹاپ ملا۔ کھلا ہوا۔ سکرین پر ایک پروگرام چل رہا تھا جو کراچی کی عمارتوں کا تھری ڈی نقشہ دکھا رہا تھا۔ ہر عمارت پر ایک نمبر تھا۔ مریم نے غور سے دیکھا — یہ نمبر لوگوں کے شناختی کارڈ کے آخری چار ہندسے تھے۔ اس کا اپنا نمبر بھی وہاں تھا۔
ایک نوٹیفکیشن آیا: 'تم نے ساحل پر آنے میں بارہ منٹ لیے۔ بہت سست۔ لیکن اکیلی آئیں — یہ بھی کچھ ہے۔ اب سنو۔ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں کراچی کی ہر ڈیجیٹل سکرین پر میرا پیغام آئے گا۔ لوگوں کے راز، ان کی چھپی ہوئی باتیں، ان کے جھوٹ — سب سامنے آ جائیں گے۔ جب تک تم مجھے نہ ڈھونڈ لو۔'
مریم نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور گاڑی کی طرف بھاگی۔ رات کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی۔ اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔ یہ کوئی عام ہیکر نہیں تھا — یہ شخص لوگوں کے فون کیمروں تک رسائی رکھتا تھا، ان کے بینک اکاؤنٹس دیکھ سکتا تھا، اور سب سے خطرناک بات — وہ جانتا تھا کہ پولیس کیا کر رہی ہے۔
🔒
مکمل کہانی پڑھیں
اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں
مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب