اسلام آباد کے ایک جدید، گلاس فرنٹ والے کو-ورکنگ اسپیس میں بیٹھے دانش نے اپنا پائتھن سکرپٹ رن کیا۔ سکرین پر ڈیٹا سیٹس تیزی سے پروسیس ہوئے اور ڈیش بورڈ پر ایک سبز رنگ کا نوٹیفکیشن ابھرا: "پریڈکٹیو میچ ایکوریسی: 94%۔" اس نے کافی کا مگ اٹھایا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ یہ محض نیا کارپوریٹ پراجیکٹ نہیں تھا۔ یہ اس کی والدہ کی پریمیم میچ میکنگ ایجنسی، "فرحت کنکشنز" کا نیا ڈیجیٹل دماغ تھا۔
بیگم فرحت کا طریقہ کار روایتی تھا مگر کلائنٹس ایلیٹ تھے۔ وہ پی ڈی ایف پروفائلز، واٹس ایپ براڈکاسٹس اور ہائی ٹی میٹنگز پر انحصار کرتی تھیں۔ لیکن 2025 میں، جب کلائنٹس کو ٹنڈر اور بمبل جیسے فلٹرز اور فوری رزلٹس کی عادت پڑ چکی تھی، بزنس سکیل نہیں ہو پا رہا تھا۔ اسی لیے دانش نے، جو ایک لیڈنگ ٹیک فرم میں لیڈ ڈیٹا سائنٹسٹ تھا، یہ نیورل نیٹ ورک ٹرین کیا تھا۔
اس ماڈل نے ہزاروں ماضی کی شادیوں کا ڈیٹا اینالائز کیا تھا—سوشل اکنامک سٹیٹس، فرقہ، خاندانی پس منظر، کیریئر ٹریجیکٹری، حتیٰ کہ لائف سٹائل چوائسز۔ یہ بے رحم حد تک پریکٹیکل تھا۔ اس نے معاشرے کے ان تمام تعصبات کو، جنہیں لوگ زبان پر نہیں لاتے، زیرو اور ون میں کوڈ کر دیا تھا۔
شام کو جب دانش گھر پہنچا تو بیگم فرحت آئی پیڈ پر پروفائلز سکرول کر رہی تھیں۔ "امی، الگورتھم لائیو ہے۔ اب آپ کو مینول شارٹ لسٹنگ کی ضرورت نہیں۔ سسٹم خود بتائے گا کہ کس پروفائل کا کس کے ساتھ لانگ ٹرم سروائیول ریٹ کتنا ہے۔" دانش نے لیپ ٹاپ ان کے سامنے رکھا۔
انہوں نے عینک ناک پر ٹکائی۔ "دانش بیٹا، ڈیٹا سے تم کمپیٹیبلٹی تو نکال لو گے، مگر کیمسٹری کیسے کوڈ کرو گے؟ شادیاں ایکسل شیٹس پر نہیں چلتیں، کمپرومائز پر چلتی ہیں۔" پھر بھی، انہوں نے اپنے ایک مشکل کلائنٹ کا ڈیٹا فیڈ کیا۔ سسٹم نے فورا 91 فیصد میچ کے ساتھ ایک آپشن دیا۔ بیگم فرحت حیران رہ گئیں، "میں پچھلے دو ہفتے سے یہی لڑکی ان کے لیے سوچ رہی تھی۔ یہ تو واقعی کام کر رہا ہے۔"
کچھ ہی مہینوں میں "فرحت کنکشنز" کا ریونیو تین گنا ہو گیا۔ ایک دن کافی پیتے ہوئے بیگم فرحت نے اچانک کہا، "تم تیس کے ہو گئے ہو۔ تمہارا اپنا ڈیٹا بھی تو سسٹم میں ہے۔ ذرا رن کر کے دیکھو، تمہارا اپنا ماڈل تمہارے لیے کیا پریڈکٹ کرتا ہے۔"
دانش نے ہنستے ہوئے اپنی پروفائل ان پٹ کی۔ چند سیکنڈز بعد سسٹم نے تین نتائج دیے۔ تینوں لڑکیاں ہائی اچیور تھیں، اس کی اپنی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی تھیں اور سوشل سکور پرفیکٹ تھا۔ یہ بالکل وہ آپشنز تھے جو کوئی بھی سمجھدار انسان چنتا۔ مگر دانش کی نظر ڈیش بورڈ کے نیچے "ہائیسٹ رسک فیکٹر / باٹم پرسنٹائل" لسٹ پر جا کر رک گئی۔
وہاں صرف ایک نام تھا۔ "زویا شفق — سمرائیزڈ سکور: 12%۔"
ریڈ فلیگز پاپ اپ ہو رہے تھے: "طلاق یافتہ (دو سالہ دورانیہ)، مالی عدم استحکام (فری لانس یو ایکس ڈیزائنر)، خاندانی پس منظر کا تضاد (پشاور کی لوئر مڈل کلاس سے)، لائف سٹائل مس میچ۔"
🔒
مکمل کہانی پڑھیں
اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں
مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب