حروف

خوفناک19929 منٹ

پرانی حویلی کا آئینہ

جب عکس خود سے بات کرنے لگے

اکتوبر 1992

جب شفیق میاں نے پرانی حویلی کا دروازہ کھولا تو سب سے پہلے جو چیز اس کے استقبال کے لیے آئی وہ بوسیدگی کی بو تھی — لکڑی کی نمی، پرانے کپڑوں کا بساند، اور ایک اور خوشبو جسے وہ پہچان نہیں سکا لیکن جس نے اس کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ ابھاگل پور کی یہ حویلی اس کے دادا کی تھی جو چھ ماہ پہلے انتقال کر گئے تھے۔ وصیت میں یہ حویلی شفیق کے نام تھی — شرط یہ تھی کہ وہ ایک رات یہاں گزارے۔

شفیق نے بیٹری والا لالٹین جلایا۔ لوڈشیڈنگ تو شہروں کا معاملہ تھا — یہاں تو بجلی آئی ہی نہیں تھی۔ دالان لمبا تھا اور اس کے قدموں کی آہٹ دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی تھی — ایسے جیسے کوئی اور بھی چل رہا ہو۔ شفیق نے اپنے آپ کو سمجھایا: پرانی عمارت ہے، آوازیں گونجتی ہیں۔ کچھ نہیں ہے۔

حویلی کے تین کمرے تھے، ایک باورچی خانہ اور ایک صحن جس میں ایک سوکھا ہوا چشمہ تھا۔ شفیق نے ہر کمرے کا دروازہ کھولا۔ پہلے کمرے میں پرانا فرنیچر تھا جس پر چادریں پڑی ہوئی تھیں — بھوتوں کی شکل کے سفید ٹیلے۔ دوسرے کمرے میں کتابیں تھیں — اردو، فارسی، عربی — بعض اتنی پرانی کہ چھونے سے ان کے ورق بکھر جائیں۔

تیسرے کمرے کا دروازہ کھولتے ہی شفیق کے ہاتھ سے لالٹین گرتے گرتے بچی۔ کمرے کی پوری پچھلی دیوار ایک آئینہ تھی — فرش سے چھت تک، دیوار سے دیوار تک۔ اس قدر بڑا آئینہ شفیق نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ سو سال سے زیادہ پرانی اس حویلی میں، جہاں ہر چیز بوسیدہ اور مٹی آلود تھی، یہ آئینہ بالکل صاف تھا۔ اس پر دھول کا ایک ذرہ بھی نہیں تھا۔

شفیق نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ عام عکس — اس کا چہرہ، اس کی قمیض، اس کے پیچھے دروازہ۔ بس ایک بات تھی جو ٹھیک نہیں تھی: اس کے پیچھے دروازہ بند تھا، لیکن آئینے میں دکھائی دینے والا دروازہ کھلا تھا۔ شفیق نے پلٹ کر دیکھا — دروازہ بند۔ آئینے میں — کھلا۔ اس نے آنکھیں ملیں۔ آئینے کا دروازہ اب بھی کھلا تھا۔ اور اس اندھیرے دروازے میں سے سرد ہوا آ رہی تھی — ایسی ہوا جو آئینے سے باہر آنا ناممکن تھی۔

شفیق نے خود کو واپس دالان میں گھسیٹا اور تیسرے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے اپنے کانوں میں خون کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ گاڑی میں بیٹھے اور چلا جائے — لیکن دادا کی وصیت یاد آئی۔ ایک رات۔ بس ایک رات۔ اگر وہ چلا گیا تو حویلی کسی اور کو مل جائے گی۔

🔒

مکمل کہانی پڑھیں

اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں

مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب