حروف

رومانس20188 منٹ

ادھوری چٹھی

ایک محبت جو الفاظ میں قید رہ گئی

مارچ 2018

زارا نے لفافہ کتاب کے صفحوں کے بیچ سے نکالا تو اس کے ہاتھ اس طرح کانپے جیسے اس نے گرم چولہے کو چھو لیا ہو۔ یہ کتاب اس کی نانی کی الماری سے ملی تھی — فیض احمد فیض کا شعری مجموعہ، 'نسخۂ ہائے وفا'۔ لفافے پر خوبصورت نستعلیق میں لکھا تھا: 'صائمہ کے نام — جو کبھی نہیں ملے گی۔' صائمہ نانی کا نام تھا۔

لفافے کے اندر ایک خط تھا — ہلکے نیلے کاغذ پر، سیاہی دھندلا چکی تھی لیکن الفاظ ابھی بھی پڑھے جا سکتے تھے۔ تاریخ تھی: ستمبر 1971۔ 'محترمہ صائمہ، میں جانتا ہوں کہ آپ یہ خط کبھی نہیں پڑھیں گی کیونکہ میں اسے بھیجنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ لیکن بعض باتیں کہنی ضروری ہوتی ہیں — چاہے وہ ہوا میں ہی تحلیل ہو جائیں۔' زارا نے سانس روکی اور پڑھتی رہی۔

خط لکھنے والے کا نام ظفر تھا۔ وہ صائمہ کے محلے میں رہتا تھا — لاہور کے اندرون شہر میں، جہاں گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ آمنے سامنے کے گھروں کی بالکونیاں ایک دوسرے کو چھوتی تھیں۔ ظفر لکھتا ہے: 'ہر صبح جب آپ چھت پر کپڑے سکھانے آتی ہیں تو میں اپنی کھڑکی سے دیکھتا ہوں — آپ کی انگلیوں میں کپڑے کی کلپیں ہوتی ہیں اور ہونٹوں پر کوئی گنگنانے والی دھن۔ آپ کو نہیں معلوم لیکن وہ دھن میرے پورے دن میں بج رہتی ہے۔'

زارا نے خط رکھا اور نانی کے کمرے کی طرف دیکھا۔ نانی کرسی پر بیٹھی تھیں — بیاسی سال کی عمر، سفید بال، آنکھوں میں وہ دھندلاپن جو وقت لے کر آتا ہے۔ 'نانی، ظفر کون تھے؟' نانی کا ہاتھ چائے کے کپ پر تھم گیا۔ ایک طویل خاموشی۔ پھر انہوں نے کہا: 'یہ نام تم نے کہاں سنا؟'

اس شام زارا نانی کے پاس بیٹھی اور وہ کہانی سنی جو آج سے پچاس سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ ظفر ایک مصور تھا — شادی بیاہ کے کارڈز پر خطاطی کرتا تھا۔ صائمہ کے ابا نے ایک بار اسے اپنے بھتیجے کی شادی کا کارڈ بنوانے بلایا۔ وہ پہلی بار گھر آیا — اور صائمہ نے اسے چائے دی۔ بس اتنا ہوا تھا۔ ایک کپ چائے۔

🔒

مکمل کہانی پڑھیں

اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں

مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب