حروف

ایڈونچر20238 منٹ

دیوسائی کا رازداں

جب پہاڑ اپنے راز کھولتے ہیں

اگست 2023

سمیرہ جب جیپ سے اتری تو اس کے پھیپھڑے سکڑ گئے — یہ ہوا نہیں تھی، یہ آکسیجن کا بخل تھا۔ دیوسائی کا میدان سطح سمندر سے چودہ ہزار فٹ بلند تھا اور اگست میں بھی اس کی ہوا ہڈیوں میں اتر جاتی تھی۔ سامنے تیرہ ہزار ایکڑ کا سنہری سبز میدان پھیلا ہوا تھا — جنگلی پھولوں سے ڈھکا ہوا، اور اس کے پار برف پوش چوٹیاں آسمان کو چھو رہی تھیں۔

'یہاں سے آگے گاڑی نہیں جائے گی۔' یہ آواز زبیر کی تھی — مقامی گائیڈ، ادھیڑ عمر، چہرے پر دھوپ کی لکیریں اور آنکھوں میں ان پہاڑوں کا نقشہ جو کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ 'پیدل تین گھنٹے۔ شیر خان جھیل تک۔ وہاں سے آگے — کوئی نہیں جاتا۔' اس نے آخری جملہ ایسے کہا جیسے کوئی دروازہ بند کر رہا ہو۔

سمیرہ ایک آرکیالوجسٹ تھی — اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھاتی تھی۔ پچھلے سال اس نے ایک پرانے برطانوی سروئیر کی ڈائری ڈھونڈی تھی جس میں دیوسائی میں ایک قدیم مقام کا ذکر تھا — ایک ایسی جگہ جو نہ بدھ مت سے تعلق رکھتی تھی نہ گندھارا سے۔ کچھ اور تھا — اس سے بھی پرانا۔ ڈائری میں ایک خاکہ تھا: ایک پتھر کا دائرہ جس کے بیچ میں ایک چیز دبی ہوئی تھی۔

ٹیم میں تین لوگ تھے — سمیرہ، زبیر، اور نوید جو اسلام آباد سے آیا تھا اور جس کے بیگ میں ڈرون اور جی پی ایس کا سامان تھا۔ نوید نوجوان تھا اور ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ 'یہ وہی کہانی ہے جو ہر آرکیالوجسٹ سناتا ہے — پرانا نقشہ، گمشدہ خزانہ، مقامی لوگوں کا خوف۔ ڈزنی فلم ہے یہ تو۔'

تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد شیر خان جھیل نظر آئی — نیلگوں پانی جس میں آسمان الٹا پڑا ہوا تھا۔ زبیر نے ایک طرف اشارہ کیا: 'وہ دیکھو — بھورے ریچھ۔' دو سو میٹر کی دوری پر تین ہمالین بھورے ریچھ گھاس میں بیٹھے تھے۔ دنیا کے سب سے کم نظر آنے والے جانوروں میں سے ایک — اور وہ تین یہاں ایسے بیٹھے تھے جیسے اپنے ڈرائنگ روم میں ہوں۔

🔒

مکمل کہانی پڑھیں

اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں

مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب