رابعہ کو سب سے پہلے طلوعِ فجر کی اذان سنائی دی — پھر مرغے نے بانگ دی — پھر اس کی امی نے پکارا۔ 'اٹھ بیٹا! آج تیرا پہلا دن ہے۔' رابعہ اپنی چارپائی پر بیٹھی — نو سال کی، پتلی سی، آنکھوں میں وہ چمک جو صرف ان بچوں میں ہوتی ہے جنہوں نے دنیا کو ابھی سمجھنا شروع نہیں کیا ہوتا۔ لیکن آج خاص دن تھا — آج وہ پہلی بار اسکول جائے گی۔
چنیوٹ کا یہ محلہ عبداللہ پور کہلاتا تھا — سو گھروں کا محلہ جہاں مرد لوگ ملوں میں کام کرتے تھے اور عورتیں گھروں میں۔ یہاں لڑکیوں کا اسکول جانا اتنا عام نہیں تھا جتنا شہروں میں۔ رابعہ کے ابا ریاض مستری موبائل ٹاور لگاتے تھے — ان کے ہاتھ کھردرے تھے لیکن ذہن کھلا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: 'میری بیٹی پڑھے گی۔ باقی سب بعد میں۔'
مسئلہ یہ تھا کہ قریبی لڑکیوں کا اسکول چار کلومیٹر دور تھا اور واحد اسکول بس صبح ساڑھے سات بجے مین روڈ سے گزرتی تھی۔ مین روڈ تک پہنچنے کے لیے رابعہ کو ایک کچی سڑک پار کرنی ہوتی — جو بارشوں میں کیچڑ بن جاتی تھی اور گرمیوں میں دھول کا طوفان۔ ریاض مستری نے حساب لگایا: بس کا کرایہ مہینے کا پانچ سو روپیہ — اس کی آمدنی کا بیس فیصد۔
پہلے دن رابعہ کی امی نصرت نے اسے نئے کپڑے پہنائے — سفید قمیض، نیلا دوپٹا — اور بالوں میں تیل لگا کر چوٹی بنائی۔ رابعہ نے بیگ کندھے پر لٹکایا جس میں ایک کاپی تھی، ایک پنسل، اور امی کا بنایا ہوا پراٹھا۔ ریاض مستری خود اسے مین روڈ تک چھوڑنے آیا۔ باپ بیٹی خاموشی سے چلے — صبح کی دھند میں ان کی لمبی پرچھائیاں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔
بس آئی تو رابعہ کی آنکھیں پھیل گئیں — اس نے اتنی بڑی گاڑی قریب سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ ڈرائیور جمیل نے مسکرا کر دروازہ کھولا۔ 'نئی سواری؟ آؤ بیٹا، بیٹھو۔' بس میں بارہ لڑکیاں اور تھیں — سب رابعہ سے بڑی، سب ایسی بیٹھی تھیں جیسے یہ ان کی روزمرہ عادت ہو۔ رابعہ نے سب سے پیچھے والی سیٹ پکڑی اور کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
🔒
مکمل کہانی پڑھیں
اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں
مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب