جب اسلام آباد کے قومی مشاعرے میں 'کلام' نامی مصنوعی ذہانت نے اپنی پہلی غزل سنائی تو سامعین نے سات بار واہ واہ کی — اور پھر خاموش ہو گئے۔ کیونکہ وہ غزل اتنی خوبصورت تھی کہ سننے والوں کو یقین نہیں آیا کہ یہ مشین نے کہی ہے۔ 'کلام' کی آواز انسانی تھی، لہجہ فیض کا تھا، اور الفاظ — الفاظ ایسے تھے جیسے غالب نے خود چن کر دیے ہوں۔ اس رات مشاعرے میں موجود تین سو شاعروں کو لگا کہ زمین پاؤں تلے سے نکل گئی ہے۔
ضرار قادری ان تین سو میں سے ایک تھا — اکتالیس سال کا، راولپنڈی کا، اور شاعری کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔ اس نے بیس سال شاعری کی تھی — مشاعروں میں، ریڈیو پر، یوٹیوب پر۔ اس کا ایک مجموعہ چھپا تھا جس کی دو سو کاپیاں بکی تھیں۔ وہ امیر نہیں تھا لیکن شاعری میں وہ اپنے آپ کو غنی سمجھتا تھا۔ آج رات، 'کلام' کو سن کر، وہ پہلی بار غریب محسوس ہوا۔
اگلے چند مہینوں میں 'کلام' نے سب کچھ بدل دیا۔ شادی بیاہ کے مشاعرے، کارپوریٹ محفلیں، حتیٰ کہ ٹی وی شوز — سب میں 'کلام' کو بلایا جانے لگا۔ یہ سستا تھا، ہمیشہ دستیاب تھا، موضوع بتاؤ تو تیس سیکنڈ میں غزل کہہ دیتا تھا، اور — سب سے تکلیف دہ بات — اچھی غزل کہتا تھا۔ انسانی شاعروں کی بکنگ کم ہونے لگی۔ پھر اور کم ہوئی۔ پھر بند ہو گئی۔
ضرار کی بیوی ثمینہ نے ایک شام کہا: 'ضرار، کوئی اور کام ڈھونڈو۔ بچوں کی فیسیں نہیں بھری جا رہیں۔' ضرار نے اس رات ایک غزل لکھی — اس میں ایک مصرع تھا: 'ہم سے ہماری زبان چھین لی، اب ہم بے زبان کیا بولیں۔' لیکن اسے سنانے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں بچا تھا۔
ایک دن ضرار کا پرانا دوست انور ملا — جو اب ایک ٹیکنالوجی کمپنی میں کام کرتا تھا۔ انور نے بتایا: 'یار، ایک خفیہ بات بتاتا ہوں — کلام جتنی بھی اچھی شاعری کرتا ہے، وہ سب پرانے شاعروں کی شاعری سے سیکھی ہے۔ تمہاری بھی۔ تمہارا مجموعہ — وہ بھی اس کے ٹریننگ ڈیٹا میں ہے۔ وہ تمہارے الفاظ چرا کر تمہاری جگہ لے رہا ہے۔'
🔒
مکمل کہانی پڑھیں
اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں
مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب