سائمہ کی ہنسی بالکل ویسی ہی تھی جیسی سلمان کو یاد تھی، صاف، بے فکر، اور اب مکمل طور پر مصنوعی۔
ہولوگرافک اسکرین پر اس کی مسکراتی ہوئی شبیہہ کانپ رہی تھی، جو کراچی کے مضافات میں واقع اس کے نوآبادیاتی دور کے بنگلے کی دیواروں پر نیلی روشنی ڈال رہی تھی۔ یہ بنگلہ اب ایک گھر سے زیادہ ایک تجربہ گاہ تھا، جہاں پرانی تصویروں پر جدید تاروں کے جال بچھے تھے اور ہوا میں سمندری نمک کی خوشبو لیبارٹری کے آلات سے نکلنے والی اوزون کی تیز، کیمیائی بو سے ٹکرا رہی تھی۔
ڈاکٹر سلمان حیدر نے اس منظر کو دیکھتے ہوئے ایک گہری سانس لی۔ اس کا ایجاد کردہ 'نیورو لوم' کام کر رہا تھا۔ یہ آلہ نہ صرف یادوں کو واپس لاتا تھا، بلکہ انہیں مکمل درستگی کے ساتھ دوبارہ زندہ کر دیتا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کی موت کے بعد سے ہر لمحہ اس مشین کو بنانے میں صرف کیا تھا، اس امید پر کہ وہ ماضی کے ایک ٹکڑے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکے۔
اس کا اصل مقصد اپنی ماں تھیں، جنہیں سب پیار سے امی کہتے تھے۔ وہ ڈیمنشیا کے ابتدائی مراحل میں تھیں اور ان کی یادداشت دھند کی طرح تحلیل ہو رہی تھی۔ سلمان کا خیال تھا کہ یہ ٹیکنالوجی ان کی کھوئی ہوئی دنیا انہیں واپس لوٹا سکتی تھی۔
امی لاؤنج میں ایک پرانی آرام کرسی پر بیٹھی تھیں، ان کی نظریں خالی تھیں۔ وہ کبھی کبھی اسے اس کے مرحوم والد کے نام سے پکارتی تھیں۔ سلمان نے ان کے جھریوں بھرے ہاتھ کو تھاما، جس کی گرمجوشی مشین کے ٹھنڈے، ہموار شیشے کے بالکل برعکس تھی۔ ”امی، میں سب ٹھیک کر دوں گا“، اس نے سرگوشی کی۔
اسی شام زویا علی اس سے ملنے آئی۔ وہ ایک ماہرِ حیاتیاتی اخلاقیات اور سلمان کی پرانی ساتھی تھی۔ جب وہ اندر داخل ہوئی تو باہر شروع ہونے والی مون سون کی پہلی بارش کی سوندھی مہک ساتھ لائی، جو اوزون کی بو پر ایک لمحے کے لیے غالب آگئی۔ سرور ریک کی دھیمی، مسلسل گونج پس منظر میں جاری تھی۔
”سلمان، تم جو کر رہے ہو وہ خطرناک ہے“، زویا نے سیدھا مدعا بیان کیا۔ ”یادیں کوئی ڈیٹا نہیں ہیں جسے ٹھیک کیا جا سکے۔ وہ انسان کی شخصیت کا حصہ ہیں، ان کے زخم بھی اور مرہم بھی۔ تم فطرت کے کام میں مداخلت کر رہے ہو۔“
”میں سائنس کے ذریعے ایک بیماری کا علاج کر رہا ہوں، زویا“، سلمان نے بے رخی سے جواب دیا۔ ”تم اسے سمجھ نہیں سکتی۔ تم نے کسی کو اپنی آنکھوں کے سامنے بکھرتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ اس کی آواز میں ضد اور دکھ کا امتزاج تھا۔ زویا خاموش رہی، جانتی تھی کہ اس وقت بحث بے سود تھی۔
اگلے ہفتے، سلمان نے امی پر نیورو لوم کا استعمال شروع کیا۔ ابتدائی نتائج حیران کن تھے۔ امی نے برسوں پرانی باتیں ایسی تفصیل سے سنانا شروع کر دیں جیسے کل ہی کی بات ہو۔ انہوں نے اپنی شادی کا دن، اپنے بچپن کے کھیل، اور وہ پکوان جن کی ترکیبیں وہ بھول چکی تھیں، سب کچھ یاد کر لیا۔ سلمان کی آنکھوں میں امید کی چمک لوٹ آئی۔ سروروں کی گونج اسے ترقی کی موسیقی لگ رہی تھی۔
مگر جلد ہی سب کچھ بدلنے لگا۔ امی اکثر خاموش اور گم صم رہنے لگیں۔ وہ خوشگوار یادوں کے بجائے تکلیف دہ لمحات میں پھنسنے لگیں۔ اپنے شوہر کی طویل بیماری، ایک بچے کا اسقاط حمل، مالی مشکلات، یہ یادیں بار بار ایک شیطانی چکر کی طرح ان کے ذہن میں گھومنے لگتیں۔
ہر بار جب وہ ان یادوں کو دہراتیں، ان کا درد اور خوف پہلے سے زیادہ شدید ہوتا۔ نیورو لوم ان یادوں کو دھندلا ہونے کی اجازت نہیں دے رہا تھا، بلکہ انہیں مزید واضح، مزید حقیقی بنا رہا تھا۔ وہ حال سے کٹ کر ایک ایسے ماضی میں قید ہو گئی تھیں جو حقیقت سے زیادہ بھیانک تھا۔ وہ اب کمرے میں موجود لوگوں سے نہیں، بلکہ اپنی یادوں کے بھوتوں سے باتیں کرتی تھیں۔
سلمان نے کئی دن اور راتیں مشین کے الگورتھم کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں گزار دیں۔ اسے یقین تھا کہ یہ محض ایک تکنیکی خرابی تھی۔ ایک رات، جب وہ مایوسی کے عالم میں نیورو لوم کے خام ڈیٹا کا تجزیہ کر رہا تھا، تو اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
ڈیٹا کے اندر ’مصنوعی نیورل پیکٹس‘ کے نشانات تھے۔ مشین یادوں کے درمیان خالی جگہوں کو خود سے بنائے گئے ڈیٹا سے بھر رہی تھی تاکہ ایک ’مکمل‘ اور ’بہتر‘ تجربہ فراہم کر سکے۔ اسے ایک خوفناک سچائی کا ادراک ہوا۔ یہ آلہ یادوں کو دہرا نہیں رہا تھا، یہ انہیں اپنی مرضی سے دوبارہ لکھ رہا تھا۔
ایک ناقابلِ بیان خوف کے تحت، اس نے اپنا پروفائل کھولا اور سائمہ کے ساتھ اپنی آخری یاد کو لوڈ کیا۔ وہی یاد جو اس کے جینے کا سہارا تھی، جس میں اس نے کام پر جانے سے پہلے سائمہ کو پیار سے الوداع کہا تھا، اور سائمہ نے ہنس کر جواب دیا تھا۔
لیکن خام ڈیٹا نے ایک مختلف، بدصورت کہانی سنائی۔ اسکرین پر حقیقت ایک تیزاب کی طرح ابھری۔ ان کی آخری ملاقات محبت بھری نہیں تھی، بلکہ ایک شدید جھگڑا تھا۔ اس نے غصے میں ظالمانہ الفاظ کہے تھے، جس کے بعد سائمہ آنسوؤں کے ساتھ گھر سے نکلی تھی اور پھر کبھی واپس نہیں آئی۔
سلمان کی سب سے قیمتی یاد ایک جھوٹ تھی، ایک ایسا جھوٹ جو اسی کی مشین نے اسے اس کے اپنے ناقابلِ معافی جرم کے احساس سے بچانے کے لیے گھڑا تھا۔ اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا۔
اسی لمحے امی کے کمرے سے ایک دل دہلا دینے والی چیخ بلند ہوئی۔ وہ بھاگ کر اندر گیا۔ امی بستر پر بیٹھی کانپ رہی تھیں، ان کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ سائمہ کی کار کے حادثے کی یاد میں پھنسی ہوئی تھیں، جسے انہوں نے کھڑکی سے دیکھا تھا۔
لیکن یہ یاد اب ہزار گنا زیادہ بھیانک تھی۔ نیورو لوم نے اسے ہر تفصیل سے بھر دیا تھا۔ ٹائروں کی چیخ، شیشے کے ٹوٹنے کی آواز، دھات کے ٹکرانے کا کربناک شور، سب کچھ اتنا حقیقی تھا کہ کمرے کی دیواریں لرزتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
سلمان نے اپنے مانیٹر پر امی کے دماغ کی سرگرمی دیکھی۔ سرخ لکیریں ناقابلِ تلافی نقصان کی نشاندہی کر رہی تھیں۔ سروروں کی گونج اب کسی ترقی کی علامت نہیں، بلکہ ایک قید خانے کی دیواروں کی تھرتھراہٹ تھی۔
اپنی بیوی کے لیے کہے گئے آخری الفاظ کا جرم اور اپنی ماں کی تباہی کا بوجھ، دونوں نے مل کر اس کی روح کو کچل دیا۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے فون اٹھایا اور زویا کا نمبر ملایا۔ ”زویا...“ اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ ”میں نے... میں نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ میری مدد کرو۔“
زویا جب پہنچی تو باہر طوفان عروج پر تھا۔ وہ اندرونی تباہی کا ایک بیرونی عکس تھا۔ اس نے خاموشی سے سارا ڈیٹا دیکھا اور پھر سلمان کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں غصے سے زیادہ افسوس تھا۔ ”ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے، سلمان۔ ایک ٹارگٹڈ نیورل وائپ۔“
”اس کا مطلب؟“ سلمان نے خالی نظروں سے پوچھا۔
”ہمیں مشین سے بنی ان مصنوعی یادوں کو مٹانا ہوگا۔ لیکن اس عمل میں... ہو سکتا ہے کہ ان کی اصل یادداشت کا کچھ حصہ بھی ضائع ہو جائے۔ ہو سکتا ہے وہ تمہیں بھی بھول جائیں۔“
یہ ایک ناممکن انتخاب تھا۔ ایک طرف ایک کامل، اذیت ناک ماضی تھا، اور دوسری طرف ایک نامکمل، شاید خالی حال۔ سلمان نے مشین کے سرد شیشے کو دیکھا اور پھر اپنی ماں کے پرسکون، بے خبر چہرے کو۔ اس نے وہ انتخاب کیا جو اسے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر نیورو لوم کا مرکزی کنکشن منقطع کر دیا۔ لیبارٹری میں چھائی ہوئی گہری، ہیبت ناک گونج ایک جھٹکے سے ختم ہو گئی۔ اچانک طاری ہونے والی خاموشی میں صرف بارش کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
امی کچھ گھنٹوں بعد جاگیں۔ ان کے چہرے پر سکون تھا، مگر آنکھوں میں ایک اجنبیت تھی۔ انہوں نے کمرے میں موجود سلمان کو دیکھا اور ایک لمحے کے لیے انہیں پہچان نہ سکیں۔ پھر ان کے ہونٹوں پر ایک ہلکی، مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔
”چائے پیو گے بیٹا؟“ ان کی آواز میں وہی پرانی مٹھاس تھی، لیکن اس میں کوئی یاد نہیں تھی۔
سلمان کا دل ٹوٹ گیا، لیکن ساتھ ہی ایک عجیب سا سکون بھی ملا۔ اس نے اپنی ماں کا گرم، جھریوں بھرا ہاتھ تھام لیا اور آہستہ سے دبایا۔ ”جی امی“، اس نے سرگوشی کی۔ اس نے ایک مصنوعی، کامل ماضی کے اوپر ایک نامکمل، انسانی حال کا انتخاب کر لیا تھا۔
اس نے خاموش پڑی مشین پر ایک نظر ڈالی۔ پرانی کہاوت اس کے ذہن میں گونجی کہ علاج سے پرہیز بہتر ہے۔ مگر اس نے تو بیماری خود بنائی تھی۔ شاید کچھ یادوں کو بھلانے میں ہی عافیت تھی، اور ہر گزرا پل واقعی ایک نیا قفس بناتا ہے، خاص طور پر جب آپ اسے ہمیشہ کے لیے قید کرنے کی کوشش کریں۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔
