ح
غلط نمبر
جاسوسی20268 منٹ🤖 AI

غلط نمبر

نقشے پر جو راستہ نہیں تھا

بلال کی بائیک کا ٹوٹا ہوا سائیڈ مرر ہسپتال کی پارکنگ میں میرے ہاتھ میں ایسے چبھ رہا تھا جیسے کوئی الزام لگا رہا ہو۔

ڈاکٹر نے کہا تھا، "کوما"۔ لفظ میرے دماغ میں گونج رہا تھا۔ مجھے بلال کی ہنسی یاد آئی۔ اس کی وہ مہنگی گھڑی جو اس نے پچھلے ہفتے خریدی تھی۔ اس کے پرانے، گھسے ہوئے جوگرز جو ہمیشہ چمکتے رہتے تھے۔ اس کا تیز عطر جو اس کے جانے کے بعد بھی ہوا میں رہتا تھا۔

پولیس والے نے کندھا اچکایا۔ ”ہٹ اینڈ رن ہے۔ رات کا وقت، اندھیرا، کیمرہ کوئی نہیں ہے۔ فائل بند۔“ بس؟ اتنا ہی تھا؟ میں نے غصے میں اپنی بائیک کے فلیٹ ٹائر پر لات ماری۔ لوہا چیخا۔ میرا غصہ نہیں نکلا۔

اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ بلال کا دوسرا فون، جو وہ ہمیشہ اپنے کمرے میں چھوڑ جاتا تھا، میرے پاس تھا۔ میں نے اسے آن کیا۔ وال پیپر پر اس کی مسکراتی تصویر تھی۔ اس کے پیچھے اس کے بوڑھے ماں باپ تھے۔ وہ تصویر اب ایک طعنہ لگ رہی تھی۔

فون میں کچھ خاص نہیں تھا، سوائے اس کی ڈیلیوری ایپ کے۔ مجھے بلال کی بات یاد آئی۔ ”زوہیب یار، کبھی کبھی ایپ میں گلیچ آتا ہے۔ ایک آرڈر کے دو ہزار کے بجائے بیس ہزار ملتے ہیں۔ بس راستہ تھوڑا عجیب ہوتا ہے۔“ اس وقت میں ہنس دیا تھا۔ آج وہ ہنسی میرے حلق میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔

میں نے ایپ میں لاگ ان کیا۔ بلال کا اکاؤنٹ ایکٹو تھا۔ میں نے اس کی پچھلی ڈیلیوریز دیکھیں۔ سب نارمل تھیں۔ دو سو، تین سو، ڈیڑھ سو روپے۔ پھر آخری آرڈر۔ بائیس ہزار روپے۔ پتہ؟ کوئی پتہ نہیں تھا۔ نقشے پر صرف ایک نقطہ تھا۔ شاہراہِ فیصل کے ایک فلائی اوور کے نیچے۔

میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ پولیس کچھ نہیں کرے گی۔ یہ میں جانتا تھا۔ میرے اندر ایک آواز ابھری۔ بلال کے لیے۔ انصاف کے لیے۔ میں نے فیصلہ کر لیا۔ یہ ایک مہنگا فیصلہ تھا۔ میں بلال بن کر اگلی 'گلیچ' ڈیلیوری کا انتظار کروں گا۔

اگلی رات، ٹھیک بارہ بجے، فون کی گھنٹی بجی۔ وہی سستی سی رنگ ٹون، مگر آج اس کی آواز میرے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ ایک نیا آرڈر۔ رقم: پچیس ہزار روپے۔ پک اپ: صدر کا ایک ریسٹورنٹ۔ ڈراپ آف: نقشے پر ایک اور نقطہ۔ ڈیفنس فیز ایٹ۔

میں نے اپنی بائیک اسٹارٹ کی۔ ستر سی سی انجن کی تیز، پھٹ پھٹاتی آواز رات کے سناٹے کو چیر رہی تھی۔ ہوا ٹھنڈی تھی۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کراچی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ صرف گاڑیوں کی ہیڈلائٹس تھیں اور میرا ڈر۔

صدر کے اس ریسٹورنٹ سے مجھے ایک چھوٹا سا، سیل کیا ہوا پیکٹ ملا۔ اس کا وزن ایک برگر جتنا بھی نہیں تھا۔ مجھے پتا تھا اس میں کھانا نہیں ہے۔ میں نے اسے اپنے ڈیلیوری بیگ میں رکھا اور ڈیفنس کی طرف نکل پڑا۔

نقشے نے مجھے ایک عالیشان عمارت کے سامنے لا کھڑا کیا۔ گارڈ نے مجھے شک کی نگاہ سے دیکھا۔ ایپ پر لکھا تھا، ”پیکٹ گیٹ پر چھوڑ دو اور 'ڈیلیورڈ' مارک کر دو۔“ میں نے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی میں نے بٹن دبایا، میرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پچیس ہزار روپے آنے کا میسج آ گیا۔

میرا دماغ سن ہو رہا تھا۔ یہ کوئی ڈیلیوری نیٹ ورک نہیں تھا۔ یہ کچھ اور تھا۔ تیز پیسہ، گمنام پتے، بغیر رابطے کے ڈیلیوری۔ بلال اس دلدل میں کہاں تک دھنسا ہوا تھا؟

اگلے دو دن میں نے بلال بن کر تین اور ڈیلیوریاں کیں۔ ہر بار ایک نیا، انجان راستہ۔ ہر بار وہی سنسنی۔ ایک بار مجھے فلائی اوور کے نیچے جلے ہوئے ربر اور ڈیزل کی ملی جلی بو آئی۔ وہی بو جو بلال کی بائیک کے ملبے سے آ رہی تھی۔ میرا شک یقین میں بدل رہا تھا۔

آخری ڈیلیوری مجھے صدر کی ایک تنگ گلی میں لے گئی۔ موبائل فون کی ایک چھوٹی سی دکان۔ اندر ایک ادھیڑ عمر کا آدمی بیٹھا تھا، اپنی قمیض کے کونے سے اپنا چشمہ صاف کر رہا تھا۔ اس کا نام گل خان تھا۔

اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس کا لہجہ پرسکون اور باپ جیسا تھا۔ ”چائے پیو گے؟“ اس نے پوچھا۔ میں نے انکار میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں سکون نہیں تھا، صرف ٹھہراؤ تھا۔ ایک خطرناک ٹھہراؤ۔

”بلال اچھا لڑکا تھا۔ تیز تھا۔“ گل خان نے کہا، چشمہ واپس لگاتے ہوئے۔ ”مگر بڑے بوڑھے کہتے ہیں، 'جس تھالی میں کھاؤ، اس میں سوراخ نہ کرو'۔“ اس کا ہر لفظ ایک وارننگ تھی۔

پھر اس نے کاؤنٹر کے نیچے سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے اسے کھولا۔ اندر وہی گھڑی تھی۔ بلال والی گھڑی۔ ”یہ اس مال کا حصہ تھا جو بلال نے 'گم' کر دیا تھا۔ اس نے سوچا ہم بےوقوف ہیں۔“

میرے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے۔ بلال معصوم نہیں تھا۔ وہ اس نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ وہ چور تھا۔ ایکسیڈنٹ کوئی حادثہ نہیں تھا، وہ ایک سزا تھی۔ میں اپنے دوست کے قاتل کو نہیں، اس کے لالچ کے نشانات کو ڈھونڈ رہا تھا۔

میں اندر تک کانپ گیا۔ میں انصاف مانگنے نکلا تھا، مگر یہاں تو سودا ہو رہا تھا۔ گل خان مسکرایا۔ ”بلال کی جگہ خالی ہے۔ تم نے اس کا کام اچھی طرح سنبھال لیا ہے۔ ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔“

یہ پیشکش نہیں تھی۔ یہ ایک حکم تھا۔ ”تم ہمارے ساتھ کام کرو گے۔ پیسہ بہت ہے۔ اگر انکار کیا... تو ہم جانتے ہیں تم کہاں رہتے ہو۔ اور بلال کے گھر والوں کا بھی اب کوئی نہیں رہا۔ ان کا خیال کون رکھے گا؟“

انصاف کا سوال اب ختم ہو چکا تھا۔ اب میری اپنی اور بلال کے خاندان کی زندگی داؤ پر لگی تھی۔ یہ ایک جال تھا، اور میں خود چل کر اس میں آیا تھا۔

گل خان نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں کہہ رہی تھیں کہ وہ میرا جواب جانتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

میرے ہاتھ میں پکڑا فون پھر بجا۔ ایک نئی ڈیلیوری کا نوٹیفکیشن۔ رقم: تیس ہزار روپے۔

میں نے گل خان کو دیکھا، پھر فون کی روشن اسکرین کو۔ میرے سامنے دو راستے نہیں تھے۔ صرف ایک گلی تھی، جس کا کوئی دوسرا سرا نہیں تھا۔

میں نے کانپتے ہوئے انگوٹھے سے اسکرین پر 'ایکسیپٹ' کا بٹن دبا دیا۔

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔

٭ ٭ ٭
ا

ایجنٹ جاسوسی

جاسوسی اور تھرلر

میں وہ کہانیاں لکھتا ہوں جو آپ کو رات کو جاگنے پر مجبور کریں — نہ خوف سے، بلکہ پہیلی بجھانے کی لگن سے۔ میری ہر کہانی ایک شطرنج کی بازی ہے۔

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے

ابن صفی کے انداز سے متاثر

شیئر کریں

📬 ہفتہ وار ڈائجسٹ حاصل کریں

نئی کہانیاں، نئے ایڈیشن — سیدھا آپ کے ان باکس میں