رات کے دو بجے، عمارہ نے اپنے ہی کچن سے چرائی ہوئی حلیم کی دیگچی اپنے بیٹے دانیال کے کمرے میں چھپائی۔
یہ وہی کچن تھا جہاں سے 'عمارہ دسترخوان' کی خوشبو پورے محلے میں پھیلتی تھی، جہاں الائچی اور دارچینی کی مہک اس کی پہچان تھی۔ اب اسی کچن میں وہ ایک چور تھی۔ حارث ساتھ والے کمرے میں سو رہا تھا، اس کا شوہر جو ’عزت‘ اور ’گھر کے سکون‘ کے نام پر اس سے اس کا نام، اس کی ہمت، سب کچھ چھین لینا چاہتا تھا۔
دیگچی چھپاتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس کی انگلیوں سے ثابت گرم مصالحوں کی خوشبو آ رہی تھی، وہ خوشبو جو کبھی اس کا فخر تھی، آج اس کے جرم کی گواہ بن گئی تھی۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرے گی، چاہے اس کے لیے اسے اپنے ہی گھر میں اجنبی کیوں نہ بننا پڑے۔
یہ سب صرف ایک ہفتہ پہلے شروع ہوا تھا۔ ایک فون نوٹیفیکیشن کی تیز ’پنگ‘ نے اس کی دنیا الٹ دی تھی۔ حارث نے اپنا فون اس کی طرف بڑھایا تھا۔ اسکرین پر ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ ایک نامعلوم شخص کا چہرہ، جس پر شدید گھن کے تاثرات تھے۔ کیمرے نے ’عمارہ دسترخوان‘ کے ڈبے پر فوکس کیا، اور پھر چمچ سے حلیم کے اندر سے ایک مرا ہوا لال بیگ نکال کر دکھایا۔
”یہ لاہور کی مشہور ’عمارہ دسترخوان‘ کی اصلیت ہے! گھر کے کھانے کے نام پر یہ زہر بیچ رہی ہیں!“ اس شخص کی آواز نفرت سے بھری ہوئی تھی۔ نیچے کمنٹس کا ایک طوفان تھا، گالیوں اور بددعاؤں کا ایک سیلاب جو سیدھا اس کے دل میں اتر رہا تھا۔
اس کی نند، فضا، فوراً تسلی دینے پہنچ گئی۔ ”بھابھی، لوگ تو ہوتے ہی ایسے ہیں۔ آپ دل چھوٹا نہ کریں۔“ مگر تسلی دیتے ہوئے بھی اس نے اپنی ضرورت سے زیادہ شوخ لپ اسٹک کا ایک اور کوٹ لگایا، اور اس کی آنکھوں میں ہمدردی کے بجائے ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ چمک جو کسی دوسرے کے گھر کو جلتا دیکھ کر حسد کی ماری آنکھوں میں اترتی ہے۔
حارث نے ایک ہی فیصلہ سنایا۔ ”عمارہ، اس معاملے کو یہیں دفن کر دو۔ ہم کوئی جواب نہیں دیں گے۔ خاندان کی عزت کا جنازہ مت نکالو۔“ اس کی آواز میں التجا کم اور حکم زیادہ تھا۔ اس کے لیے بینک میں اس کی نوکری، معاشرے میں اس کا مقام، ایک جھوٹی ویڈیو کی سچائی سے زیادہ اہم تھا۔
عمارہ نے سر تو ہلا دیا، مگر اسی رات، جب حارث اپنے اسٹاک مارکیٹ ایپ میں مگن تھا، اس نے خاموشی سے ایک آئی ٹی ایکسپرٹ سے رابطہ کیا۔ ایک ایسا قدم جو اس کی شادی کی بنیادیں ہلا سکتا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ایک کھوکھلی عزت سے زیادہ قیمتی اس کی اپنی سچائی تھی۔
اگلے چند دن جہنم سے کم نہ تھے۔ آرڈرز کینسل ہونے لگے۔ محلے کے واٹس ایپ گروپ میں اس کے خلاف باتیں ایک وبا کی طرح پھیل گئیں۔ کینال ویو انکلیو کے پڑوسی، جو کل تک اس کے کھانوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے، اب اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتے تھے۔
پھر وہ دن آیا جب حارث نے، اپنی ماں اور فضا کے دباؤ میں آ کر، آخری وار کیا۔ ”عمارہ، کچھ دن تم کچن استعمال مت کرو۔ جب تک یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔“ اس کی پناہ گاہ، اس کی سلطنت، اب اس کے لیے ایک جیل خانہ بن چکی تھی۔ اب کھانا بھی باہر سے آ رہا تھا۔
اس کا دس سالہ بیٹا، دانیال، جو اپنی بوتلوں کے ڈھکنوں سے قلعے بنانے میں مگن رہتا تھا، معصومیت سے پوچھ بیٹھا، ”مما، آپ کے شامی کباب کب ملیں گے؟ اب تو طوطا بھی ’لوڈ شیڈنگ‘ کہنا سیکھ گیا ہے، پر آپ نے کباب نہیں بنائے۔“ عمارہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
فضا کا رویہ عجیب سے عجیب تر ہوتا جا رہا تھا۔ وہ ہر وقت فون پر چپکی رہتی، دبی دبی کھانسی کے ساتھ، اور ہمدردی کے پردے میں عمارہ کے زخموں پر نمک چھڑکتی۔ ”بھابھی، فکر نہ کریں۔ میں نے سنا ہے ایک بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں، میں آپ کے لیے ان سے دعا کرواؤں گی۔“
ایک شام، عمارہ دانیال کے کمرے سے گزر رہی تھی تو اس نے اسے بڑبڑاتے سنا۔ وہ اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا اور کہہ رہا تھا، ”پھر پھپھو نے اس انکل کو فون پر کہا کہ ’لال بیگ والا پلان‘ تو کامیاب ہو گیا، اب آگے کیا کرنا ہے؟“
عمارہ کا خون خشک ہو گیا۔ اس نے دانیال سے پوچھا تو اس نے کندھے اچکا دیے۔ ”پتا نہیں مما، پھپھو کہہ رہی تھیں کہ وہ کوئی ڈرامہ دیکھ رہی ہیں۔“ عمارہ نے بچے کی بات کو وہم سمجھ کر جھٹک دیا، مگر شک کا ایک بیج اس کے دل میں بویا جا چکا تھا۔ یہ شک ایک زہریلے پودے کی طرح بڑھنے والا تھا۔
اسی دوران آئی ٹی ایکسپرٹ کا میسج آیا۔ ”ویڈیو ایک برنر اکاؤنٹ سے اپ لوڈ ہوئی تھی، لیکن میں نے آئی پی ایڈریس ٹریس کر لیا ہے۔ یہ گلبرگ کے کسی پبلک وائی فائی ہاٹ سپاٹ سے اپ لوڈ ہوئی ہے۔ کینال ویو کا کوئی کسٹمر وہاں کیوں جائے گا؟“
یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایک سازش تھی۔ صاف، ٹھنڈے دماغ سے کی گئی ایک سازش۔ حارث کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اب وہ ہر وقت اپنی گاڑی کی چابیاں جیب میں کھنکھناتا رہتا، جیسے کسی ان دیکھے خطرے سے بھاگنے کے لیے تیار ہو۔ گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی، جسے صرف فون نوٹیفیکیشنز کی ’پنگ‘ توڑتی تھی۔
دو دن بعد، آئی ٹی ایکسپرٹ نے آخری رپورٹ بھیج دی۔ ایک ای میل، جس میں ایک نام اور ایک تصویر تھی۔ ”اس شخص کا نام آصف ہے۔ یہ ایک موٹر مکینک ہے۔ اس نے یہ جعلی اکاؤنٹ بنایا تھا۔“ عمارہ کا دل ڈوبنے لگا۔ یہ آصف کون تھا؟
اور پھر اس نے ای میل میں ساتھ دی گئی دوسری تصویر کھولی۔ یہ آصف کے سوشل میڈیا پروفائل کا اسکرین شاٹ تھا۔ پروفائل تصویر میں وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ فضا کھڑی تھی، مسکرا رہی تھی، اور اس کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی۔
ایک لمحے میں ساری کڑیاں جڑ گئیں۔ ویڈیو والا ’گاہک‘، دانیال کی سنی ہوئی بات، اور فضا کی عجیب و غریب ہمدردی۔ یہ حسد سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ ایک منصوبہ تھا۔ فضا کا خفیہ منگیتر، جسے خاندان اس کی کم حیثیت کی وجہ سے کبھی قبول نہ کرتا۔
یہ سب ایک ڈرامہ تھا۔ فضا نے جان بوجھ کر ایک تماشا کھڑا کیا تھا تاکہ وہ اپنے ’نا مناسب‘ منگیتر کو ایک ’سہارے‘ اور ’ہمدرد‘ کے طور پر خاندان میں متعارف کروا سکے۔ وہ جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے اس رشتے پر ہاں کروانا چاہتی تھی، یہ سوچ کر کہ جب خاندان کی عزت پہلے ہی داؤ پر لگی ہو گی، تو وہ ایک اور اسکینڈل برداشت نہیں کر پائیں گے۔
عمارہ کے ہاتھ میں پکڑا فون ایک بم کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی نیلی روشنی اس کے چہرے پر ایک خوفناک سچائی روشن کر رہی تھی۔ ثبوت اس کے پاس تھا۔ وہ ایک کلک سے فضا کا پول کھول سکتی تھی۔
مگر اس کی قیمت کیا تھی؟ اپنی عزت بچانے کے لیے وہ اپنی نند کی زندگی تباہ کر دیتی۔ یہ صرف لال بیگ کی سازش کا راز نہ کھلتا، بلکہ فضا کے خفیہ رشتے کا بھی بھانڈا پھوٹ جاتا۔ خاندان پر ایک ایسی شرمندگی طاری ہوتی جو کسی وائرل ویڈیو سے کہیں زیادہ مستقل اور تکلیف دہ ہوتی۔ حارث، جو اپنی جھوٹی عزت کے خول میں جی رہا تھا، ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا۔
اسے فضا پر غصے سے زیادہ ترس آنے لگا۔ ایک عورت جو اپنی پسند کی زندگی پانے کے لیے اس حد تک گر سکتی تھی، وہ اندر سے کتنی بے بس اور تنہا ہو گی۔
تبھی فضا کمرے میں داخل ہوئی۔ وہی شوخ لپ اسٹک، وہی ہمدردی بھری مسکراہٹ۔ ”بھابھی، آپ پریشان نہ ہوں۔ اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔“ اس نے پانی کا گلاس عمارہ کی طرف بڑھایا۔
عمارہ نے ایک نظر فضا کے چہرے پر ڈالی، اور پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے فون پر۔ شیلف پر رکھے مصالحوں کے جار سے دارچینی کی مہک آ رہی تھی۔ اسے لگا جیسے یہ خوشبو اس سے سوال کر رہی ہو کہ اس کی اپنی سچائی زیادہ اہم ہے یا ایک دوسری عورت کی بربادی؟
اس نے فون ان لاک کیا۔ ’فیملی گروپ‘ کھولا، جہاں مہینوں سے صرف خاموشی تھی۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ اس نے ایک جملہ ٹائپ کیا۔ صرف ایک جملہ۔
اس کی انگلی ’Send‘ کے بٹن پر ٹھہر گئی۔ باہر کی دنیا کا شور، نوٹیفیکیشنز کی آوازیں، سب مدھم پڑ گئیں۔ اصل جنگ تو اسکرین کی نیلی روشنی تلے، اس ایک کمرے میں لڑی جا رہی تھی۔ اور اس کا نتیجہ جو بھی ہوتا، قیمت بہت بھاری ہونے والی تھی۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے لکھی گئی ہے۔
