اس شام جب سورج افق میں خون کی طرح پھیل رہا تھا، بشیر کو پہلی بار اپنی زمین کے دل کی دھڑکن سنائی دی۔
یہ کوئی جانی پہچانی آواز نہیں تھی۔ نہ تو یہ دور چلتے کسی ٹریکٹر کی گڑگڑاہٹ تھی اور نہ ہی ٹیوب ویل کے انجن کی تھرتھراہٹ۔ یہ ایک گہری، دھیمی اور مسلسل دھمک تھی، جیسے کوئی بہت بڑا دل زمین کی پسلیوں کے نیچے دھڑک رہا ہو۔ اس نے اپنے بوسیدہ جوتے سے مٹی کو کریدا، کان لگا کر سننے کی کوشش کی، مگر آواز اتنی ہلکی تھی کہ محسوس ہوتی تھی، سنائی نہیں دیتی تھی۔ یہ اس کی ہڈیوں میں گونج رہی تھی۔ ”میرا وہم ہے“، اس نے خود سے کہا اور اپنے مرجھائے ہوئے گندم کے کھیت پر ایک تھکی ہوئی نظر ڈالی۔ ہوا میں خشک مٹی اور ناکام امیدوں کی باس رچی تھی۔
گھر لوٹ کر اس نے زینب سے اس بات کا ذکر نہیں کیا۔ وہ پہلے ہی سوکھتے کھیتوں اور بڑھتے قرضوں سے پریشان تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ایسی بے سروپا بات اس کی پریشانی میں صرف اضافہ ہی کرے گی۔ رات کے کھانے پر روٹی کا نوالہ اس کے حلق میں اٹک رہا تھا۔ باہر جھینگروں کی آواز میں بھی اسے وہی دھیمی، منظم دھمک سنائی دے رہی تھی۔
اگلے کئی ہفتوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ وہ دھڑکن اب صرف مغرب کے وقت نہیں، بلکہ ہر اس لمحے سنائی دیتی جب وہ اپنے کھیت میں اکیلا ہوتا۔ یہ آواز اب پہلے سے زیادہ واضح تھی، ایک ایسی موجودگی جس سے وہ انکار نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے کھیت کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔ فصل کی رنگت ایک بیمار پیلے پن میں بدل گئی تھی، حالانکہ وہ اسے نہر کا پورا پانی دے رہا تھا۔ زمین پیاسی تھی، ایسی پیاس جو پانی سے نہیں بجھ رہی تھی۔
ایک صبح اسے کھیت میں عجیب و غریب نشانات نظر آئے۔ مٹی پر ایسے گول دائرے بنے تھے جیسے کسی نے بڑی پرکار سے بنائے ہوں، ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے، ایک پیچیدہ نقش بناتے تھے۔ یہ کسی جانور کے پیروں کے نشان نہیں تھے اور نہ ہی کسی انسان کی شرارت لگتی تھی۔ نشانات کی گہرائی اور صفائی میں ایک غیر فطری پن تھا۔
زینب اپنے شوہر کی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر گھل رہی تھی۔ بشیر اب کم سوتا تھا اور کھاتا تو بس نام کا ہی تھا۔ اس کی آنکھیں ہر وقت سرخ رہتیں اور وہ گھنٹوں کھیت کے بیچ کھڑا خلا میں گھورتا رہتا۔ ایک شام زینب نے ہمت کر کے پوچھا، ”بشیر، خیریت تو ہے؟ آپ کسی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں۔ زمین کی فکر نہ کریں، اللہ کوئی وسیلہ بنائے گا۔“
بشیر اس کی طرف ایسے مڑا جیسے کسی گہری نیند سے جاگا ہو۔ ”تم نہیں سمجھو گی زینب۔ یہ زمین… یہ زمین کچھ مانگ رہی ہے۔“ اس کی آواز میں ایک ایسی وحشت تھی جسے زینب نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ خاموش ہو گئی، اس کے دل میں انجانے خوف نے ڈیرے ڈال لیے۔
آخرکار، گاؤں کے دوسرے کسانوں کے طعنوں اور اپنی بے بسی سے تنگ آ کر، بشیر نے رحمت شاہ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ رحمت شاہ گاؤں کے آخر میں ایک پرانے برگد کے نیچے اپنی کٹیا میں رہتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کی نظریں وہ کچھ دیکھ سکتی ہیں جو عام آنکھوں سے اوجھل تھیں۔ وہ گاؤں کی بھولی بسری تاریخ کا حافظ تھا اور اس کی باتیں پہیلیوں کی طرح ہوتی تھیں۔
رحمت شاہ اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اس کی جھریوں بھری آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ بشیر نے جھجکتے ہوئے اسے اپنی پریشانی بتائی؛ زمین سے آتی آواز، مرجھاتی فصل، اور مٹی پر بننے والے پراسرار نقش۔
بزرگ نے ایک لمبا کش لیا اور دھواں ہوا میں چھوڑا۔ اس کی نگاہیں بشیر کے چہرے کو نہیں، بلکہ اس کے پیچھے دور افق کو دیکھ رہی تھیں۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد وہ ایک گہری، رازدارانہ آواز میں بولا، ”زمین اپنا قرض ہمیشہ وصول کرتی ہے، بشیر احمد۔ جو بیج تم نے نہیں بویا، کبھی کبھی اس کی فصل بھی کاٹنی پڑتی ہے۔“
بشیر کو اس کے جواب سے کوئی تسلی نہ ہوئی۔ وہ غصے اور مایوسی کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا۔ ”یہ کیسی باتیں ہیں شاہ جی؟ میں نے اپنی زمین پر محنت کے سوا کچھ نہیں بویا۔“ رحمت شاہ صرف مسکرایا، ایک ایسی مسکراہٹ جس میں ہمدردی کم اور ایک قدیم علم کا دکھ زیادہ تھا۔ بشیر بغیر کچھ کہے وہاں سے واپس آ گیا۔
اس رات چاند نہیں تھا۔ آسمان سیاہ مخمل کی طرح تھا جس پر ستارے بھی ماند پڑ چکے تھے۔ بشیر سے برداشت نہ ہوا۔ وہ کدال اٹھا کر کھیت کی طرف چل پڑا، اسی جگہ جہاں سے دھڑکن کی آواز سب سے زیادہ واضح محسوس ہوتی تھی۔ اس نے پاگلوں کی طرح زمین کھودنی شروع کر دی۔ خشک مٹی کی پرتیں ٹوٹ رہی تھیں اور اس کا ہر وار غصے اور وحشت سے بھرا تھا۔
کچھ فٹ کھودنے کے بعد، کدال کسی سخت چیز سے ٹکرانے کی بجائے ایک نرم، لچکدار شۓ میں دھنس گئی۔ آواز ایسی تھی جیسے گیلی مٹی میں کوئی چھری اتاری ہو۔ بشیر ٹھٹک گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے مٹی ہٹائی۔ نیچے کی زمین سخت اور خشک نہیں، بلکہ غیر فطری طور پر نم اور ملائم تھی، جیسے کسی زندہ وجود کا گوشت ہو۔
اس نے ہمت کر کے ہاتھ ڈالا۔ اس کی انگلیاں کسی ٹھنڈی، چکنی اور الجھی ہوئی چیز سے ٹکرائیں۔ اس نے زور لگا کر اسے باہر کھینچا۔ وہ مٹی کا ایک بڑا لوتھڑا تھا جس میں سے لمبے، کالے اور موٹے بالوں جیسے ریشے نکل رہے تھے۔ یہ انسانی بال لگتے تھے، مگر ان کی لمبائی اور مضبوطی غیر معمولی تھی۔ انہیں چھونے پر ایک ٹھنڈک کا احساس ہوتا تھا جو اس کی رگوں میں اترتی جا رہی تھی۔
جس لمحے بالوں کا وہ گچھا زمین سے باہر آیا، وہ گہری، دھڑکتی ہوئی آواز ایک دم بند ہو گئی۔ ایک ایسا سناٹا چھا گیا جو شور سے زیادہ خوفناک تھا۔ پھر، اس گڑھے میں سے ایک سرسراہٹ ابھری۔ جیسے خشک پتے پتھر پر رگڑ کھا رہے ہوں۔ ایک سوکھی، بے جان آواز، جس نے اس کا نام پکارا، ”بشیر…“
وہ سرگوشی اب بشیر کی مستقل ساتھی بن گئی۔ یہ اس کے کانوں میں نہیں، بلکہ اس کے دماغ کے اندر گونجتی تھی۔ ایک ایسی آواز جو وعدے کرتی تھی۔ وہ اسے ایک ایسی فصل کا یقین دلاتی تھی جو گاؤں میں کسی نے نہ دیکھی ہو، بس شرط یہ تھی کہ ”مٹی کو سیراب کیا جائے“۔ آواز نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ کس چیز سے۔
بشیر کی حالت بدل گئی۔ وہ ایک سایہ بن کر رہ گیا۔ اس کا جسم سوکھ گیا تھا اور آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں۔ وہ اب کسی سے بات نہیں کرتا تھا، حتیٰ کہ زینب سے بھی نہیں۔ وہ اپنا سارا وقت کھیت میں گزارتا، زمین پر جھکا، آہستہ آہستہ خود سے باتیں کرتا۔ گاؤں والے اسے دیکھ کر کترانے لگے۔ وہ کہتے تھے بشیر کا دماغ چل گیا ہے۔
ایک دوپہر زینب کو اپنے دروازے کی چوکھٹ پر لکڑی کا ایک چھوٹا سا تعویذ پڑا ملا۔ اس پر کچھ عجیب نشان کھدے ہوئے تھے۔ اس نے فوراً پہچان لیا کہ یہ رحمت شاہ کا کام ہے۔ یہ ایک تنبیہ تھی، ایک خاموش پیغام۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔
اسی شام اس نے بشیر کا سامنا کرنے کی ٹھانی۔ ”یہ کیا لگا رکھا ہے آپ نے؟“ اس کی آواز میں آنسو تھے۔ ”سارا دن زمین سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ لوگ آپ کو پاگل کہہ رہے ہیں۔ یہ تعویذ رحمت شاہ نے بھیجا ہے۔ وہ ہمیں کسی خطرے سے آگاہ کر رہا ہے۔“
بشیر اس کی طرف یوں گھوما جیسے کوئی جنگلی جانور ہو۔ اس کی آنکھوں میں محبت کی جگہ ایک سرد بیگانگی تھی۔ وہ دھاڑا، ”تم سب میرے دشمن ہو۔ تم اس زمین کی طاقت کو نہیں سمجھتے۔ یہ مجھے سب کچھ دے گی۔ سب کچھ۔“ اس کا غصہ، اس کی وحشت، اس کا تنہا پن مکمل ہو چکا تھا۔ زینب خوف سے پیچھے ہٹ گئی۔ یہ وہ بشیر نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔
اور پھر فصل تیار ہوئی۔ تمام تر منطق کے خلاف، بشیر کے کھیت میں گندم کے پودے یوں لہلہا اٹھے جیسے کسی نے جادو کر دیا ہو۔ سٹے غیر معمولی طور پر لمبے اور بھرے ہوئے تھے۔ مگر ان کا رنگ عام گندم جیسا سنہرا نہیں، بلکہ ایک گہرا، تقریباً کالا سبز تھا، جیسے گہرے پانی کا رنگ ہو۔
فصل سے ایک عجیب، میٹھی اور ہلکی سی دھاتی مہک آتی تھی، جیسے بارش کے بعد گیلی مٹی اور زنگ آلود لوہے کی بو مل گئی ہو۔ گاؤں والے حیران تھے، مگر ان کی حیرت میں حسد سے زیادہ ایک انجانا خوف شامل تھا۔ کوئی بھی بشیر کے کھیت کے پاس پھٹکنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔
کٹائی کی آخری رات تھی۔ ہوا بالکل ساکن تھی اور آسمان پر پورا چاند چمک رہا تھا۔ بشیر کھیت کی طرف گیا تو زینب کا دل نہ مانا۔ ایک ناقابلِ برداشت خوف کے باوجود وہ چپکے سے اس کے پیچھے ہو لی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر اس کے شوہر نے زمین سے کیا سودا کیا ہے۔
کھیت میں کوئی عفریت نہیں تھا، کوئی بلا نہیں تھی۔ وہاں صرف بشیر تھا، جو فصل کے عین درمیان میں ایک بت کی طرح ساکت کھڑا تھا۔ زینب نے ایک ناقابلِ یقین منظر دیکھا۔ ہوا بند تھی، ایک پتہ بھی نہیں ہل رہا تھا، مگر گندم کے لمبے، سیاہی مائل پودے آہستہ آہستہ، ایک غیر فطری حرکت کے ساتھ، بشیر کی طرف جھک رہے تھے، جیسے کوئی وفادار مخلوق اپنے آقا کے سامنے سر جھکاتی ہے۔
اور پھر زینب نے وہ آواز سنی۔ وہی دھیمی، منظم دھمک۔ مگر اس بار یہ زمین کے نیچے سے نہیں آ رہی تھی۔ وہ آواز سیدھی بشیر کے سینے سے اٹھ رہی تھی۔ یہ اس کے اپنے دل کی دھڑکن تھی، جو اب زمین کی دھڑکن بن چکی تھی۔
بشیر آہستہ سے اس کی طرف مڑا۔ اس کی آنکھیں خالی تھیں، ان میں کوئی جذبہ، کوئی پہچان نہیں تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک پرسکون، کھوکھلی مسکراہٹ تھی۔ وہ زمین کا قرض اتار چکا تھا۔ یا شاید، وہ خود قرض بن چکا تھا۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت سے تخلیق کی گئی ہے۔
