فلٹر لگاتے ہی زویا کو لگا جیسے اسکرین کے اندر سے کسی نے ٹھنڈی انگلی اس کی گردن پر رکھ دی ہو۔ اس کا چہرہ فون میں زرد اور کانپتا ہوا نظر آنے لگا۔ بالکل ویسا جیسا آئلہ ملک اپنے بیمار بھائی کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہوئے بتاتی تھی۔ زویا نے اپنی ہلکی سی کھانسی کو نظر انداز کیا، اسٹائلس کا پلاسٹک کیپ دانتوں میں دبایا اور ریکارڈ کا بٹن دبا دیا۔ اسے بھی اس #ShifaFilter کمیونٹی کا حصہ بننا تھا۔
”Creepy lag raha hai yaar،“ اس کی دوست سارہ کا ڈی ایم آیا۔ زویا نے میسج سین پر چھوڑ دیا۔ اس نے ویڈیو پوسٹ کی، کیپشن میں آئلہ کو ٹیگ کیا اور لکھا، ”Sending healing vibes! Get well soon۔“ ہزاروں لوگوں کی طرح اس کی دعا بھی اب آئلہ کی امانت تھی۔ ایک لمحے کے لیے لاہور کے اس حبس بھرے کمرے میں اسے اپنا اکیلا پن کم ہوتا محسوس ہوا۔ پھر لائٹ چلی گئی اور یو پی ایس کی دبی دبی آواز نے خاموشی کو مزید بھاری کر دیا۔
اگلی صبح تک کھانسی گہری ہو چکی تھی۔ سینے میں ایک ایسی کھڑکھڑاہٹ تھی جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ ڈیزائن بناتے ہوئے اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔ ”شاید گرمی کی وجہ سے ہے،“ اس نے خود کو تسلی دی۔ مگر کمرے میں ایک انجانی، اسپتالوں جیسی مہک بس گئی تھی جو جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اس نے اپنی پوسٹ چیک کی، درجنوں لائکس اور کمنٹس تھے۔ ”So much positivity!“ ایک لڑکی نے لکھا تھا۔ اسے لگا، شاید یہ کام کر رہا ہے۔
دو دن بعد تھکن ایک بھاری کمبل کی طرح اس پر چھائی ہوئی تھی۔ ہاتھوں کا کپکپانا اب کوئی وہم نہیں تھا۔ اس سے اسٹائلس ٹھیک سے پکڑا نہیں جا رہا تھا۔ گھبرا کر اس نے فلٹر کے بارے میں گوگل کرنا شروع کر دیا۔ آئلہ کے پیج پر تعریفوں کے ڈھیر تھے، لیکن پھر اسے ایک چھوٹے سے ریڈٹ فورم کا لنک ملا۔ پوسٹ ڈیلیٹ ہو چکی تھی، مگر کسی نے اس کا اسکرین شاٹ لے لیا تھا۔
اسکرین شاٹ میں #ShifaFilter کے کوڈ کا تجزیہ تھا۔ پوسٹ کرنے والے نے لکھا تھا کہ کوڈ کی کچھ لائنیں عجیب طرح سے لکھی گئی ہیں، جو دیکھنے میں پرانے منتروں یا ’چلہ‘ کی ترتیب جیسی لگتی ہیں۔ لیکن اصل جھٹکا نیچے لگی تصویر سے لگا۔ وہ آئلہ کی ایک پرانی فیملی فوٹو تھی۔ اس کا بھائی بالکل صحت مند مسکرا رہا تھا، اور اس کے ساتھ کھڑی آئلہ کمزور اور بیمار لگ رہی تھی۔ وہی زرد رنگت، وہی کپکپاتے ہاتھ جو فلٹر لوگوں کے چہروں پر بناتا تھا۔ اور اس کے گلے میں، کالے دھاگے پر وہی چاندی کا تعویذ تھا۔
زویا کا دماغ سن ہو گیا۔ آئلہ کسی کو شفا نہیں دے رہی تھی، وہ تو فصل کاٹ رہی تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے آئلہ کا پیج دوبارہ کھولا۔ اب اسے کمنٹس مختلف نظر آئے۔ ”Feeling a bit off today، but sending prayers!“، ”تھوڑی تھکاوٹ ہے، but all for a good cause!“ یہ ہمدردی کے جملے نہیں تھے۔ یہ بیماری کی رپورٹیں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں۔
اس کا فون وائبریٹ ہوا۔ آئلہ کی نئی پوسٹ تھی۔ وہ کسی دھوپ والی بالکونی میں کھڑی تھی، اس کا چہرہ چمک رہا تھا، صحت سے دمک رہا تھا۔ اس نے بے خیالی میں اپنے گلے میں لٹکے چاندی کے تعویذ کو چھوا۔ کیپشن تھا، ”آپ سب کی دعاؤں اور شفا کی انرجی کا شکریہ۔ بھائی کی طبیعت اب بہت بہتر ہے۔“ زویا کے بے قابو کپکپاتے ہاتھ سے فون تقریباً گر گیا۔ یو پی ایس کی مسلسل آواز اب ایک دھیمے، خوفناک قہقہے کی طرح لگ رہی تھی۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائی گئی ہے۔
