نئے فون پر ابو کا پہلا وائس نوٹ اتنا صاف تھا کہ یقین ہی نہیں آیا۔ دبئی کے شور، مشینوں کی گھڑگھڑاہٹ سے پاک، ایک ایسی آواز جیسے ابو ساتھ والے کمرے میں بیٹھے ہوں۔ اگست کی حبس بھری رات میں، جب جوہر کی آدھی گلیاں لوڈ شیڈنگ میں ڈوبی تھیں، فون کی ٹھنڈی دھات میری گرم ہتھیلی سے چپکی ہوئی تھی۔ ”کیسا لگا تحفہ، میری رانی؟“ آواز کے آخر میں وہی دو سُروں والی جانی پہچانی سی گنگناہٹ تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔ مگر کچھ تو تھا جو غلط تھا۔
امی چھوٹی سی بالکونی میں موتیا کے پودے کو پانی دے رہی تھیں اور ابو کا پیغام سن کر مسکرا رہی تھیں۔ ”سنو تو ذرا، جمشید کی آواز کتنی جوان لگ رہی ہے۔“ انہوں نے خوشی سے کہا۔ مگر میرا دماغ کراچی کے کسی ٹیک بلاگر کی وڈیوز میں اٹکا ہوا تھا، جس نے بتایا تھا کہ بہترین مائیکروفون بھی ماحول کا ہلکا سا شور ضرور پکڑتا ہے۔ یہ آواز ضرورت سے زیادہ صاف تھی۔ ایک بے عیب جھوٹ جیسی۔ شک کا ایک ٹھنڈا ناگ دل میں رینگنے لگا تھا۔
میں چاہتی تو ”شکریہ ابو“ لکھ کر بھیج دیتی اور اس نئے، چمکتے ہوئے فون کے کیمرے سے کھیلنے لگتی۔ مگر مجھ سے رہا نہیں گیا۔ انگلیوں نے خود بخود وہ راستہ ڈھونڈ لیا جو میں نے سینکڑوں بار وڈیوز میں دیکھا تھا۔ سیٹنگز، پھر فائل مینیجر، اور پھر وہ چھپے ہوئے فولڈرز جنہیں کمپنیاں عام یوزر کی نظروں سے دور رکھتی ہیں۔ ایک فولڈر کا نام عجیب تھا۔ ’ڈاٹ نومِیڈیا‘۔ ایک ایسی جگہ جہاں وہ فائلیں چھپائی جاتی ہیں جنہیں آپ اپنی گیلری میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔
وہ ایک جھٹکا نہیں تھا، بلکہ موت کا ایک سست، تکلیف دہ سلسلہ تھا۔ پہلی تصویر میں ابو کا چہرہ تھکا ہوا تھا۔ دوسری میں وہ دبئی کے لیبر کیمپ والے بستر پر لیٹے تھے، گال پچکے ہوئے، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں۔ ہر اگلی تصویر میں وہ کچھ اور کمزور ہو چکے تھے۔ آخری تصویر کسی کاغذ کی تھی۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ صحت کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ۔ تاریخ تین ہفتے پرانی تھی۔ میرے ہاتھ کانپنے لگے، اور فون گرتے گرتے بچا۔ تو کیا پرویز چاچا نے ابو کا فون۔۔۔؟
مگر سرٹیفکیٹ کے نیچے ایک اور فائل تھی۔ ایک اسکرین ریکارڈنگ۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے اسے چلایا۔ اسکرین پر ایک ایپ کھلی تھی، جس کا نام ’وائس سنتھیسائزر ۲.۰‘ تھا۔ میں نے پرویز چاچا کو ابو کے پرانے، شور والے وائس نوٹس ایک ایک کر کے ایپ میں ڈالتے دیکھا۔ پھر انہوں نے وہ پیغام ٹائپ کیا جو مجھے ابھی ملا تھا۔ ”کیسا لگا تحفہ، میری رانی؟“ ایک بٹن دبا، اور مشین نے ابو کی ہوبہو آواز میں وہ جملہ بول دیا۔ آخر میں، پرویز چاچا نے ماؤس سے کلک کر کے وہ دو سُروں والی گنگناہٹ کی آڈیو فائل الگ سے جوڑ دی۔
ریکارڈنگ ختم ہوئی۔ فون کی اسکرین سیاہ ہو گئی اور اس میں میرا اپنا ڈرا ہوا چہرہ نظر آیا۔ دوسرے کمرے سے امی کی آواز آئی، جو اب بھی اسی نقلی پیغام کو دوبارہ سن کر خوش ہو رہی تھیں۔ موتیا کی ہلکی ہلکی خوشبو ہوا میں تیر رہی تھی۔ اب یہ راز میرا تھا۔ ایک زندہ جھوٹ، جو ٹھنڈی دھات کی صورت میں میری مٹھی میں قید تھا۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائی گئی ہے۔
