جب سے فیروز کی چھت نے سانس لینا شروع کیا تھا، پڑوسیوں کے گملوں نے مرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ کوئی عام سولر پینل نہیں تھا۔ ’آبِ حیات سولوشنز‘ کا وعدہ چوبیس گھنٹے ٹھنڈی ہوا کا تھا۔ فیروز کے لیے یہ جنت تھی۔ اس کی دس سالہ بیٹی مریم کی سانسیں اب گھٹن کی بجائے اے سی کی ٹھنڈک سے رواں تھیں۔ جنریٹر کے شور کی جگہ چھت سے ایک ہلکی، نامیاتی گنگناہٹ آتی، جیسے کوئی بڑا جانور سو رہا ہو۔ لیکن اس سکون کی ایک عجیب قیمت تھی۔ بالکونی سے باہر ہوا میں اوزون اور گیلی مٹی کی مہک بسی تھی، چاہے آسمان ہفتوں سے صاف ہی کیوں نہ ہو۔
پہلے تو صرف شاکرہ آنٹی کے گلاب سوکھے، پھر وحید صاحب کے کبوتروں نے چھجا چھوڑ دیا۔ جلد ہی پوری عمارت کے پانی کے ٹینک معمول سے آدھے وقت میں خالی ہونے لگے۔ ”بھائی، لگتا ہے اس علاقے پر کوئی آسیب ہے، ہوا میں نمی ہی نہیں رہی،“ وحید صاحب نے شکایت کی۔ فیروز نے مسواک چباتے ہوئے ان کی بات ٹال دی۔ اس نے اپنا مسئلہ حل کر لیا تھا، باقی دنیا اپنی فکر خود کرے۔ تبھی مریم نے اپنی اسکیچ بک دکھائی۔ اس نے ایک عجیب و غریب مخلوق بنائی تھی جس کی رگیں بالکل پینل کے ڈیزائن جیسی تھیں، اور وہ اپنے اردگرد کے پھولوں سے رنگ اور پانی کھینچ رہی تھی۔ فیروز نے بے چینی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
پھر ایک دوپہر، اے سی بند ہو گیا۔ گنگناہٹ خاموش ہو چکی تھی۔ چھت پر جا کر دیکھا تو پینل کے ایک کونے سے گاڑھا، چاکی سرمئی رنگ کا کیچڑ رس رہا تھا۔ مریم کا سانس دوبارہ اکھڑنے لگا تھا۔ فیروز نے غصے میں کمپنی کو فون کیا۔ یہ کامل حل بھی ایک دھوکا نکلا؟ کراچی میں کوئی چیز کبھی پوری طرح کام کیوں نہیں کرتی؟
گھنٹے بعد ٹیکنیشن کی جگہ جبران خود آ گیا، وہی سیلزمین، پہلے سے زیادہ کسی ہوئی شرٹ میں۔ ”سر، یہ کوئی ٹیکنیکل فالٹ نہیں ہے،“ اس نے گھبرا کر کہا۔ ”یہ پینل... یہ ایک زندہ چیز ہے۔ ایک جینیاتی طور پر انجینیئرڈ کائی جو ہوا سے نمی کھینچ کر بجلی بناتی ہے۔“ فیروز کو لگا جیسے اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی ہے۔ اس کے گھر کی ٹھنڈک پڑوسیوں کی ہوا سے چرائی گئی نمی تھی۔ وہ کیچڑ؟ وہ اس مخلوق کا فضلہ تھا۔ ”ہماری کارپوریٹ social responsibility ہے،“ جبران نے ٹوٹی پھوٹی اردو انگریزی میں کہا۔ ”ہم آپ کو نیا ماڈل مفت میں لگا کر دیں گے۔ اس کا انٹیک زیادہ... فوکسڈ ہے۔“
فیروز اس کا مطلب سمجھ گیا۔ ’فوکسڈ انٹیک‘ یعنی چوری جاری رہے گی، بس زیادہ خاموشی سے۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سامنے والے فلیٹ میں ایک بچہ گرمی سے رو رہا تھا۔ اس کی نظر اپنی بیٹی پر پڑی جو انہیلر ہاتھ میں لیے مشکل سے سانس لے رہی تھی۔ جبران نے نیا معاہدہ میز پر آگے بڑھایا۔ دستخط کرنے کا مطلب تھا مریم کی حفاظت، لیکن ساتھ ہی جان بوجھ کر ایک ایسا عفریت بننا جو اپنے ہی محلے کو کھا رہا تھا۔ انکار کا مطلب تھا کہ کمپنی اپنا پینل اتار لے جاتی — اور وہ جنریٹر جو اس نے پینل لگواتے وقت بیچ دیا تھا، اب واپس نہیں آ سکتا تھا۔ مریم واپس اسی گھٹن بھری زندگی میں چلی جاتی۔ بزرگوں کی کہاوت ذہن میں گونجی: ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘۔ مگر یہاں تو لاٹھی خود بھینس کو کھا رہی تھی۔
فیروز نے میز پر رکھی مسواک کو دیکھا، پھر مریم کی ڈرائنگ میں بنے اس عفریت کو۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا۔ خاموش، حبس زدہ کمرے میں قلم کے کلک کی آواز ایک دھماکے کی طرح گونجی۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔
