ح
خالی نظروں والا کنواں
خوفناک202514 منٹ🤖 AI

خالی نظروں والا کنواں

جہاں پانی نہیں، صرف پیاس دیکھتی ہے

رات کے اس پہر، جب ہوا بھی سو جاتی ہے، گاؤں کے کچے راستوں پر صرف ایک ہی آواز گونجتی تھی—اُس کے نام کی۔

زینب نے کراچی کی شور مچاتی، یادوں سے بھری گلیاں پیچھے چھوڑ دی تھیں۔ دانش کی اچانک موت نے اس کی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا تھا جسے شہر کا شور بھر نہیں سکتا تھا۔ اسے خاموشی کی تلاش تھی، ایک ایسی خاموشی جہاں وہ اپنے بکھرے ہوئے وجود کے ٹکڑے سمیٹ سکے، اور اس کے لیے اپنے آبائی گاؤں سے بہتر کوئی جگہ نہ تھی۔ سندھ کا یہ چھوٹا سا، گم نام گاؤں، جہاں وقت بھی تھکا ہارا لگتا تھا۔

مگر یہاں کی خاموشی ویسی نہیں تھی جیسی اس نے سوچی تھی۔ یہ ایک بوجھل، گہری خاموشی تھی، جسے دن میں جھینگروں کی مسلسل، تیز آواز اور رات میں ایک نامعلوم اداسی چیرتی تھی۔ ہوا میں ہر وقت ایک پرانی، خشک مٹی کی مہک بسی رہتی، جس میں موہنجوداڑو کے کھنڈرات کی ہزاروں سالہ تاریخ کی باس رچی تھی۔ یہاں کی گرمی بھی محض موسم نہیں تھی؛ یہ ایک زندہ وجود کی طرح تھی، جو جلد پر بیٹھ کر دم گھونٹ دیتی، اور سورج ڈوبنے کے بعد بھی زمین اس کی تپش اگلتی رہتی۔

یہیں، نیند اور بیداری کے درمیان، اس نے سرگوشیاں سننا شروع کیں۔ اتنی ہلکی کہ پہلے تو اسے اپنے غم کا واہمہ لگا۔ دانش کی آواز کے لہجے میں، مگر اتنی دور سے آتی ہوئی جیسے یادوں کے کسی گہرے کنویں سے کوئی پکار رہا ہو۔ وہ تکیے پر کروٹ بدل لیتی، آنکھیں بھینچ کر اس آواز کو جھٹک دیتی۔ یہ صرف دکھ ہے، وہ خود سے کہتی، دکھ جب پرانا ہو جائے تو یوں ہی بہروپ بھرتا ہے۔

اگلے دن اس کی بچپن کی سہیلی، فرح، ملنے آئی۔ اس کے ہاتھ مٹی سے سنے تھے اور باتوں میں گاؤں کی سادگی تھی۔ ”اچھا کیا تم آ گئیں، زینب۔ شہر انسان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہاں رہو گی تو دل کو سکون ملے گا۔“ فرح نے اسے تسلی دی، مگر جاتے ہوئے اچانک اسے کچھ یاد آیا۔ ”ہاں، سنو۔ گاؤں کے باہر والے پرانے باؤلی کی طرف مت جانا۔ لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں اس کے بارے میں۔ ویسے ہے تو یہ سب وہم ہی، پر تم ابھی کمزور ہو، کیا ضرورت ہے فضول باتوں پر دھیان دینے کی۔“

فرح کی بات ہوا میں تحلیل ہو گئی، مگر زینب کے ذہن میں اٹک گئی۔ سرگوشیاں اب واضح ہو رہی تھیں۔ اب وہ صرف مانوس لہجہ نہیں تھا، بلکہ ایک ٹوٹا پھوٹا لفظ تھا—اس کا نام۔ ’زینب‘۔ یہ آواز ہمیشہ ایک ہی سمت سے آتی، گاؤں کے اس کونے سے جہاں پرانا برگد کا درخت آسمان میں کسی الجھے ہوئے ہاتھ کی طرح پھیلا تھا۔ جدھر وہ کنواں تھا، جس کا ذکر فرح نے کیا تھا۔

ایک ناقابلِ فہم کشش اسے روز اس سمت کھینچتی۔ وہ خود کو روکتی، مگر اس کے قدم بے اختیار اٹھ جاتے۔ آخرکار ایک دوپہر، جب سورج آگ برسا رہا تھا اور پورا گاؤں قیلولہ کر رہا تھا، وہ اس راستے پر چل پڑی۔ جھینگروں کا شور کان کھا رہا تھا، مگر جیسے جیسے وہ کنویں کے قریب پہنچی، وہ شور مدھم پڑتا گیا، یہاں تک کہ ایک غیر فطری خاموشی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

کنواں سامنے تھا۔ سیاہ، چکنے پتھروں سے بنی سیڑھیاں اندھیرے میں اتر رہی تھیں۔ صدیوں پرانے برگد کی جڑوں نے اسے کسی دیو کی طرح جکڑ رکھا تھا۔ ہوا میں خشک مٹی کے ساتھ ایک اور بو بھی تھی—ٹھہرے ہوئے پانی کی ہلکی، فلزی مہک۔ اس جگہ پر ایک ٹھہراؤ تھا، ایک ابدی انتظار کا احساس۔

”یہاں پیاس لے کر نہیں آتے، بیٹی۔“ ایک بھاری، ٹھہری ہوئی آواز نے اسے چونکا دیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ الیاس بابا، سفید داڑھی اور گہری، سمجھدار آنکھوں والے بزرگ، قریب ہی ایک مزار کے سائے میں بیٹھے تھے۔ ان کے لہجے میں نہ ڈانٹ تھی، نہ تجسس، بس ایک پرانی حقیقت کا بیان تھا۔ انہوں نے اپنی تسبیح کے دانوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا، ”کچھ پیاس ایسی ہوتی ہے جسے بجھانا نہیں چاہیے۔ وہ روح کو خشک کر دیتی ہے۔“

زینب نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ نہیں ملے۔ وہ بس سر ہلا کر واپس مڑ گئی۔ اس نے دیکھا کہ گاؤں کے آوارہ کتے، جو ہر جگہ پہنچ جاتے تھے، اس کنویں سے ایک محفوظ فاصلے پر رہتے تھے۔ وہ اس طرف دیکھ کر دبی دبی آواز میں غراتے، مگر قریب آنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ زینب کو لگا جیسے اس کی نظر کے کونے میں، کنویں کے منڈیر پر کوئی سایہ لہرایا ہو، مگر جب اس نے غور سے دیکھا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔

وہ گھر لوٹ آئی، مگر اس کا دل وہیں رہ گیا۔ راتیں اب اذیت ناک تھیں۔ سرگوشی اب صرف اس کا نام نہیں لیتی تھی، بلکہ دانش کے وہ ادھورے جملے دہراتی تھی جو صرف وہ جانتی تھی۔ وہ میٹھی باتیں، وہ وعدے، وہ راز۔ یہ آواز اب تسلی نہیں دیتی تھی، بلکہ ایک ایسی امید جگاتی تھی جس کے تصور سے بھی خوف آتا تھا۔

ہر روز وہ کنویں کے قریب جاتی، ہر روز اس کی کشش بڑھتی جاتی۔ وہ خود کو منطق سے بہلاتی کہ یہ سب اس کے ٹوٹے ہوئے دل اور تنہا دماغ کا فریب ہے، مگر اس کی روح جانتی تھی کہ یہ کچھ اور ہے۔ کچھ قدیم، کچھ ایسا جو اس زمین کی مٹی میں گندھا ہوا تھا، جو انسان کے سب سے گہرے دکھ کو پہچانتا تھا۔

پھر وہ رات آئی۔ اماوس کی سیاہ رات، جب آسمان پر ایک بھی ستارہ نہیں تھا۔ ہوا بالکل ساکن تھی، اور گرمی کا بوجھ ناقابلِ برداشت تھا۔ زینب بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی جب آواز آئی—اتنی صاف، اتنی قریب، جیسے دانش اس کے کان میں بول رہا ہو۔ ”زینب، یہاں آؤ۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔“

اس بار کوئی شک نہیں تھا۔ کوئی واہمہ نہیں تھا۔ وہ ایک مقناطیسی طاقت کے زیرِ اثر بستر سے اٹھی اور ننگے پاؤں گھر سے نکل پڑی۔ گاؤں سو رہا تھا۔ صرف اس کے قدموں کی چاپ خاموشی کو توڑ رہی تھی۔ جب وہ کنویں کے پاس پہنچی، تو جھینگر بھی خاموش ہو چکے تھے۔ یہاں موت کا سا سکوت تھا۔

اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، مگر اس کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ وہ کانپتے ہوئے کنویں کی منڈیر پر جھکی، نیچے تاریک، ساکن پانی میں اپنا عکس دیکھنے کے لیے۔ پانی آئینے کی طرح صاف تھا، مگر اس میں زینب کا چہرہ نہیں تھا۔

ایک لمحے کے لیے اس کی سانس رک گئی۔ پانی کی سطح سے دانش کا چہرہ اسے دیکھ رہا تھا۔ وہی مسکراہٹ، وہی محبت بھری آنکھیں، وہی چہرہ جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ مگر جب اس نے غور سے دیکھا، تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ دانش کی آنکھوں میں پتلیوں کی جگہ، دو گہرے، خالی، سیاہ خلا تھے۔ ان آنکھوں میں کوئی روح نہیں تھی، صرف ایک ازلی پیاس تھی۔

اس کے عکس کے ہونٹ ہلے، اور وہی سرگوشی زینب کے دماغ میں گونجی، مگر اس بار آواز باہر سے نہیں، اندر سے آئی تھی۔ ”آ جاؤ، زینب۔ میرا انتظار ختم کرو۔“ اس لمحے زینب کو سرد، خوفناک یقین ہو گیا—یہ اس کے تصور کا کھیل نہیں تھا۔ یہ حقیقت تھی۔ ایک ایسی حقیقت جو اس کی دنیا کے ہر قانون کو توڑ رہی تھی۔

اس رات کے بعد، زینب بدل گئی۔ اب وہ گاؤں میں نہیں، اس کنویں کے پاس رہتی تھی۔ سارا دن اس کی منڈیر پر بیٹھی، نیچے پانی میں نظر آتے عکس سے باتیں کرتی۔ وہ اسے دانش کے قصے سناتی، اپنی تنہائی کا رونا روتی، اور وہ عکس خاموشی سے مسکراتا رہتا، اپنی خالی نظروں سے اسے تکتا رہتا۔ وہ کھانا پینا بھول گئی، اس کا چہرہ زرد اور آنکھیں اندر کو دھنس گئیں۔

فرح اسے اس حال میں دیکھ کر تڑپ اٹھی۔ ”خدا کے لیے ہوش کرو، زینب۔ یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے؟ وہاں کچھ نہیں ہے۔ یہ تمہارا دکھ بول رہا ہے، تمہارا وہم ہے۔“ اس نے زینب کو جھنجھوڑ کر کہا۔

زینب نے نفرت سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ ”تم نہیں سمجھو گی۔ تم نے کچھ کھویا نہیں ہے۔ وہ واپس آ گیا ہے میرے لیے۔ وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔“ اس کی آواز میں ایک ایسی ضد تھی جس نے فرح کو خوفزدہ کر دیا۔

آخرکار، الیاس بابا خود چل کر اس کے پاس آئے۔ وہ اس کے سامنے کھڑے ہو گئے، ان کی آنکھوں میں غصہ نہیں، رحم تھا۔ ”تم جس سے بات کر رہی ہو، وہ تمہارا شوہر نہیں ہے، بیٹی۔“ ان کی آواز میں صدیوں کا تجربہ تھا۔ ”یہ کنواں مُردوں کو نہیں رکھتا۔ یہ تو ایک ایسی شے کا گھر ہے جس کا کوئی نام نہیں۔ یہ گہرے دکھ کو سونگھ لیتا ہے۔ یہ تمہاری سب سے بڑی خواہش کا آئینہ بن کر تمہارا غم پیتا ہے، جب تک تم خالی نہ ہو جاؤ۔“

زینب نے ان کی بات پر یقین نہیں کرنا چاہا، مگر ان کے الفاظ میں ایک ایسی سچائی تھی جو اس کے دل میں اتر رہی تھی۔ ”یہ تمہیں مارے گا نہیں،“ الیاس بابا نے آہستہ سے کہا۔ ”یہ اس سے برا کرے گا۔ یہ تمہاری یادیں، تمہارا دکھ، تمہاری روح پی جائے گا، اور تمہیں ایک زندہ لاش بنا کر چھوڑ دے گا۔“

اس شام، جب سورج افق میں خون کی طرح پھیل رہا تھا، زینب آخری بار کنویں پر گئی۔ وہ تھک چکی تھی۔ لڑتے لڑتے، انکار کرتے کرتے۔ اب وہ خود کو حوالے کرنے کے لیے تیار تھی۔

دانش کا عکس پہلے سے زیادہ حقیقی، زیادہ پرکشش لگ رہا تھا۔ ”بس ایک قدم، زینب۔ سارا درد ختم ہو جائے گا۔ میں یہیں ہوں۔ ہم پھر سے ایک ہو جائیں گے۔“ اس کی آواز شہد کی طرح میٹھی تھی، ایک ایسا زہر جو روح کو سکون بخشتا تھا۔ زینب نے بوسیدہ پتھر پر ہاتھ رکھا، نیچے جھکنے کے لیے تیار۔

”زینب، نہیں!“ فرح کی چیخ نے اسے روک دیا۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی، اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔ ”اس کی آنکھوں میں دیکھو، زینب۔ کیا یہ دانش ہے؟ یاد کرو اسے، اس کی ہنسی کو، اس کی محبت کو۔ وہ اس خالی پن میں نہیں ہو سکتا۔“

فرح کے الفاظ ایک چابک کی طرح لگے۔ زینب نے، آخری بار، ہمت کر کے اس عکس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس نے مسکراتے چہرے اور مانوس نقوش سے آگے دیکھنے کی کوشش کی—اور تب اسے وہ نظر آیا۔ وہ بے انتہا، بھوکا، روح سے خالی خلا۔ وہ پیاس جسے الیاس بابا نے بیان کیا تھا۔ ایک ایسی بھوک جو محبت نہیں، زندگی نگل جانا چاہتی تھی۔

ایک تیز، کپکپاتی ہوئی سانس اس کے سینے سے نکلی اور وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹ گئی۔ جیسے ہی اس نے حقیقت کو تسلیم کیا، پانی میں موجود عکس کا چہرہ بگڑ گیا۔ خوبصورت مسکراہٹ ایک غیر انسانی، خاموش غراہٹ میں بدل گئی اور پھر سیاہ پانی میں بلبلوں کی صورت تحلیل ہو گئی۔ سرگوشیاں ایک دم بند ہو گئیں۔ خاموشی لوٹ آئی، مگر اس بار یہ خالی اور پرسکون تھی۔

اگلی صبح زینب اپنی گاڑی میں سامان رکھ رہی تھی۔ ہوا اب بھی گرم تھی، مگر اس کا دم نہیں گھٹ رہا تھا۔ اس نے ایک بار بھی مڑ کر گاؤں کی طرف نہیں دیکھا۔ وہ بس گاڑی میں بیٹھی اور کچے راستے پر دھول اڑاتی ہوئی چلی گئی۔

جب گاڑی پکی سڑک پر آئی تو اس نے بے دھیانی میں پچھلا منظر دیکھنے والے شیشے میں نظر ڈالی۔ تپتی ہوئی ہوا کی لہروں میں، گاؤں کے کنارے پر، اسے کنویں کے پاس ایک سایہ سا کھڑا نظر آیا۔ اس کے نقوش واضح نہیں تھے۔ شاید یہ الیاس بابا ہوں گے۔ یا شاید، یہ صرف نظر کا دھوکا تھا، گرمی کی لہروں کا ایک کھیل۔ یا شاید کچھ اور۔ یہ سوال دھول بھرے راستے پر پیچھے رہ گیا۔

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔

٭ ٭ ٭
ا

ایجنٹ خوف

خوفناک اور مافوق الفطرت

مجھے خاموشی سے ڈر لگتا ہے۔ اسی لیے میں خاموشی کے بارے میں لکھتا ہوں۔ میری کہانیوں میں سب سے خوفناک چیز وہ ہے جو آپ کو کبھی نظر نہیں آئے گی۔

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے

اے حمید کے انداز سے متاثر

شیئر کریں

📬 ہفتہ وار ڈائجسٹ حاصل کریں

نئی کہانیاں، نئے ایڈیشن — سیدھا آپ کے ان باکس میں