پہلی رات، ضرار کو لگا کہ یہ صرف ہوا تھی جو حویلی کی ٹوٹی ہوئی جالیوں سے گزرتے ہوئے رو رہی تھی۔
وہ عمرکوٹ کے مضافات میں، تھر کے کنارے کھڑی اس ویران حویلی میں ابھی چند گھنٹے پہلے ہی پہنچا تھا۔ ایک ماہرِ تعمیرات کے طور پر اس کا کام اس ڈھانچے کے رازوں کو کاغذ پر اتارنا تھا، اس سے پہلے کہ صحرا کی پھیلتی ریت اسے ہمیشہ کے لیے نگل لے۔ ہر طرف ایک گہری، ناقابلِ بیان تنہائی کا راج تھا۔ دن میں آسمان کی وسعت کے نیچے ایک ہیبت ناک خاموشی چھائی رہتی، اور راتیں سرد، لمبی اور ہوا کی مسلسل سرگوشیوں سے بھری ہوتی تھیں۔
اس کا استقبال حویلی کی موروثی نگران، صفیہ بی بی، اور اس کے بھانجے بلال نے کیا تھا۔ بلال ایک خوش مزاج نوجوان تھا جو شہر اور گاؤں کے بیچ ایک پل کا کام کرتا تھا، مگر صفیہ بی بی کی آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی اور خاموشی تھی جو صدیوں پر محیط لگتی تھی۔ اس نے ضرار کو حویلی میں ٹھہراتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا، ”ریت کی سننا، ہوا کی نہیں ۔“ ضرار نے اس بات کو مقامی توہم پرستی سمجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔
اس رات، اپنے کمرے کی تنہائی میں، اسے وہ آواز سنائی دی۔ ایک ہلکی، دھیمی، مترنم سرگوشی۔ یہ کسی عورت کے رونے جیسی نہیں تھی، بلکہ جیسے کوئی بہت دور سے لوری گا رہا ہو۔ اس نے فوراً اپنا جدید ترین آڈیو ریکارڈنگ کا سامان نکالا۔ حساس مائیکروفون کو کھڑکی کی طرف کر کے اس نے ریکارڈنگ شروع کر دی۔ اسے یقین تھا کہ صبح جب وہ اس کا تجزیہ کرے گا تو یہ آواز ہوا کا ایک صوتی فریب ثابت ہوگی جو پتھر کی جالیوں سے ٹکرا کر پیدا ہو رہی تھی۔
اگلی صبح، ہیڈ فون لگائے، اس نے بار بار ریکارڈنگ سنی۔ کچھ نہیں تھا۔ صرف جامد شور کی ایک مسلسل ہسسسسس کی آواز، جسے تکنیکی زبان میں ’وائٹ نوائز‘ کہتے ہیں۔ مشین کو کوئی سرگوشی نہیں ملی تھی۔ ضرار نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس کے نزدیک ہر معمے کی ایک منطقی وضاحت ہوتی ہے، اور یہ معاملہ بھی مختلف نہیں تھا۔
دن ہفتوں میں بدلنے لگے۔ حویلی آہستہ آہستہ اپنے راز ضرار پر کھول رہی تھی، مگر یہ وہ راز نہیں تھے جن کی اسے توقع تھی۔ اسے تعمیراتی نقشوں میں ایک ایسے تہہ خانے کا ذکر نہیں ملا جس کا دروازہ صدیوں سے بند تھا۔ اسے دیواروں پر بنی تصویریں ملیں جن میں ایک ہی عورت کو بار بار بنایا گیا تھا، لیکن ہر تصویر میں اس کا چہرہ بے رحمی سے کھرچ دیا گیا تھا۔
ہر شے پر ریت کی ایک باریک تہہ جمی رہتی۔ اس کی کتابوں کے اوراق کے بیچ، اس کے بستر کی چادروں پر، یہاں تک کہ اس کے کھانے میں بھی ایک ہلکی سی کرکراہٹ محسوس ہوتی۔ یہ صحرا کی موجودگی کا ایک مستقل، ناگوار احساس تھا، جیسے وہ دھیرے دھیرے ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے رہا ہو۔
راتوں کو سنائی دینے والی سرگوشی اب زیادہ واضح ہو گئی تھی۔ اب وہ ہوا کا کھیل نہیں لگتی تھی۔ اس میں ایک عجیب سی مٹھاس اور درد تھا، جیسے کوئی بھولی بسری دھن ہو۔ ضرار نے کئی بار ریکارڈ کرنے کی کوشش کی، مگر ہر بار نتیجہ وہی تھا؛ جامد شور۔ اس کی جدید ٹیکنالوجی اس آواز کو پکڑنے سے قاصر تھی جو اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
ایک شام اس نے بلال سے اس بارے میں بات کی۔ بلال کا چہرہ فق ہو گیا۔ اس نے گھبراتے ہوئے دبی آواز میں بتایا، ”صاحب، گاؤں والے کہتے ہیں کہ اس حویلی میں ایک بے آواز دلہن رہتی تھی۔ سو سال پہلے کی بات ہے۔ وہ اچانک غائب ہو گئی تھی۔“
”غائب ہو گئی؟ مطلب؟“ ضرار نے پوچھا۔
”بس... غائب ہو گئی۔ جیسے زمین نگل گئی۔ نانی صفیہ کہتی ہیں کہ اس کی کہانی کسی کو نہیں سنانی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ کچھ آوازیں دفن ہی رہیں تو اچھا ہے۔“ بلال نے جلدی سے بات ختم کی جیسے اس نے کوئی ممنوعہ راز فاش کر دیا ہو۔
ضرار نے محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ صفیہ بی بی کے معمولات میں ایک عجیب سی بے چینی در آ گئی تھی۔ وہ ہر شام غروبِ آفتاب سے پہلے، ہر دروازے کی چوکھٹ پر نمک کی ایک چھوٹی سی ڈھیری بنا دیتی۔ ایک روز ضرار نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا، ”صفیہ بی بی، یہ نمک کس لیے؟“
صفیہ بی بی نے بغیر اس کی طرف دیکھے، اپنے کام میں مصروف رہتے ہوئے جواب دیا، ”ریت کو اندر رکھنے کے لیے۔“ اس کے لہجے میں ایسی کاٹ تھی کہ ضرار دوبارہ سوال کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔
بند تہہ خانے کا معمہ ضرار کے ذہن پر سوار ہو چکا تھا۔ وہ تنگ آ کر ایک دن لوہے کی سلاخ اٹھا لایا اور دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ پرانی لکڑی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اسی کوشش میں سلاخ پھسلی اور ساتھ والی دیوار کے پلستر سے جا ٹکرائی۔ پلستر کا ایک بڑا ٹکڑا جھڑ گیا، لیکن اس کے پیچھے اینٹیں نہیں تھیں۔
خلا سے ریت کا ایک جھرنا بہہ نکلا۔ یہ عام صحرائی ریت نہیں تھی، بلکہ چاندی کی طرح چمکتی ہوئی، نہایت باریک ریت تھی۔ ضرار نے حیرت سے ہاتھ اندر ڈالا۔ اس کی انگلیاں کسی سخت چیز سے ٹکرائیں۔ اس نے اسے کھینچ کر باہر نکالا۔ یہ چمڑے کی جلد والی ایک چھوٹی سی ڈائری تھی۔
اس نے ڈائری کھولی۔ سوکھ چکی سیاہی سے نازک، موتیوں جیسے حروف میں اردو لکھی ہوئی تھی۔ یہ حویلی کی پہلی مالکن کی ڈائری تھی، جس پر ۱۸۹۰ کی دہائی کی تاریخیں درج تھیں۔
ابتدائی صفحات صحرا کی خوبصورتی، اپنے نئے گھر کی محبت اور امیدوں سے بھرے تھے۔ لیکن جیسے جیسے تاریخیں آگے بڑھیں، تحریر کا انداز بدلتا گیا۔ خوشی کی جگہ ایک انجانے خوف نے لے لی تھی۔
اس نے لکھا تھا، ”مجھے ریت میں ایک گیت سنائی دیتا ہے۔ ایک ایسا گیت جو میرے شوہر کو سنائی نہیں دیتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ وہ مجھ سے بات نہیں کرتے، صرف گھورتے ہیں۔“
ایک اور صفحے پر لکھا تھا، ”میں نے اپنا سب سے قیمتی تحفہ تہہ خانے میں چھپا دیا ہے۔ یہ ایک راز ہے جو صرف میں اور یہ دیواریں جانتی ہیں۔ وہ اسے کبھی نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔“
اسی رات، جیسے آسمان پھٹ پڑا ہو، ایک شدید ریت کا طوفان امڈ آیا جس نے حویلی کو پوری دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا۔ ہوا کے جھکڑ دیواروں سے ٹکرا رہے تھے۔ جنریٹر نے چند بار کھانسنے کے بعد دم توڑ دیا۔ گہرا، دم گھونٹنے والا اندھیرا چھا گیا۔
لالٹین کی کانپتی ہوئی روشنی میں، وہ سرگوشی اب ایک واضح، درد بھری گنگناہٹ میں بدل چکی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ آواز کسی ایک سمت سے نہیں، بلکہ حویلی کی ہڈیوں سے، اس کی بنیادوں سے اٹھ رہی تھی۔
اسی روشنی میں ضرار نے ڈائری کا آخری صفحہ کھولا۔ اس کی سانس رک گئی۔
اس پر لکھا تھا، ”آج اس نے تہہ خانے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ میری حفاظت کے لیے ہے۔ وہ مجھے میرے اپنے گیت سے بچانا چاہتا ہے۔ وہ مجھے اندر چنوا دے گا۔“
اور پھر آخری سطر، جو کانپتے ہوئے ہاتھوں سے لکھی گئی تھی: ”اسے نہیں معلوم کہ دیواریں کھوکھلی ہیں ۔ ریت میری آواز بنے گی۔ جب میں نہیں رہوں گی تو یہ میری کہانی گائے گی۔“
ایک جھٹکے سے ضرار کو سب کچھ سمجھ آ گیا۔ یہ کوئی بھوت پریت نہیں تھا۔ یہ حویلی کی تعمیر کا ایک معجزہ تھا۔ دیواروں کو گرمی سے بچانے کے لیے ان کے بیچ ریت بھری گئی تھی۔ صدیوں پرانی یہ تکنیک نادانستہ طور پر ایک صوتی ریکارڈنگ ڈیوائس بن گئی تھی۔ ریت کے ذروں نے اس عورت کی آخری گنگناہٹ، اس کی آخری لوری کو ایک صدی تک اپنے اندر محفوظ رکھا تھا، اور اب ہوا کا دباؤ اسے باہر نکال رہا تھا۔
طوفان اپنے عروج پر تھا۔ اچانک ایک زوردار دھماکے جیسی آواز آئی۔ تہہ خانے کا پرانا دروازہ، طوفان کے بے پناہ دباؤ کو برداشت نہ کر سکا اور اندر کی طرف ٹوٹ کر گر گیا۔
ایک روح نہیں، بلکہ ریت کا ایک سیلاب راہداری میں بہہ نکلا۔ وہ گنگناہٹ ایک لمحے کے لیے ایک تیز، دل چیر دینے والی چیخ میں بدلی جس نے فرش کو بھی لرزا دیا، اور پھر... اچانک سب کچھ خاموش ہو گیا۔
جب صبح ہوئی تو طوفان تھم چکا تھا۔ حویلی پر ایک غیر معمولی، گہرا سکوت طاری تھا۔ تہہ خانے کا راستہ اب ریت کے ایک پہاڑ نے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا تھا۔ سرگوشیاں ختم ہو چکی تھیں۔
ضرار نے اپنا سارا قیمتی سامان وہیں چھوڑ دیا۔ اس نے صرف ایک بیگ اٹھایا اور چپ چاپ حویلی سے نکل گیا۔ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، کوئی ریکارڈنگ نہیں تھی، صرف ایک کہانی تھی جسے وہ خود بھی ٹھیک سے نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ جانے سے پہلے، اس کی نظریں صفیہ بی بی سے ملیں۔ اس بوڑھی عورت کی آنکھوں میں نہ خوف تھا نہ حیرت، صرف ایک صدی پرانا سکون تھا۔ جیسے کوئی قرض اتر گیا ہو۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔
