ابا کے فون پر آخری لوکیشن قبرستان کی نہیں، اس بنجر زمین کی تھی جس پر خون خرابہ ہو سکتا تھا۔ جمشید کا انگوٹھا فون کی ٹوٹی سکرین پر بار بار جی پی ایس کے نقطے کو چھو رہا تھا، جیسے اسے غائب ہو جانے کا ڈر ہو۔ فری لانسنگ کے قرضوں میں ڈوبا، اسے یقین تھا کہ اس کے مرحوم باپ نے نسلوں کا کوئی راز، کوئی خزانہ یہیں دفنایا ہے۔ سورج سوا نیزے پر تھا اور کدال کی ہر ضرب اس کی امیدوں اور مایوسیوں کی گواہ تھی۔
”زمین کھودنے سے باپ کے گناہ نہیں دبتے، بھتیجے۔“ چاچا بہرام کی آواز مکڑی کے جالے کی طرح فضا میں پھیل گئی۔ وہ اپنی نیم کی مسواک چباتا، جمشید کے ہر وار کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی باز چوزے کو دیکھتا ہے۔ دونوں خاندانوں کے بیچ اسی زمین کے ٹکڑے پر پرانی دشمنی تھی۔ جمشید نے جواب نہیں دیا، اس کا دھیان صرف اس نیلے نقطے پر تھا جو اب ٹمٹما نہیں رہا تھا، بلکہ ایک ہی جگہ رکا ہوا تھا۔ وہ پہنچ چکا تھا۔
اچانک کدال پتھر سے نہیں، کسی کھوکھلی چیز سے ٹکرائی۔ ایک تیز ’خرررچ‘ کے بعد ایک بھدی سی ’دھپ‘ کی آواز آئی۔ کنکریٹ۔ جمشید کا دل حلق میں آ گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے مٹی ہٹائی تو ایک چوکور سیمنٹ کا ڈھکن نظر آیا۔ اس شور پر گاؤں کے چند لوگ بھی جمع ہونا شروع ہو گئے تھے، جو چاچا بھتیجے کی تکرار دیکھنے آئے تھے۔ اب یہ تلاش صرف جمشید کی نہیں رہی تھی، یہ ایک تماشا بن چکا تھا۔
ڈھکن بھاری تھا۔ جب آخرکار وہ سرکا تو نیچے سونے یا چاندی کے صندوق کی جگہ تارکول میں لپٹی ایک موٹی کالی کیبل اور ایک سبمرسیبل پمپ کا سرد، بھدا دھاتی ڈھانچہ تھا۔ ایک لمحے کے لیے سب کچھ تھم گیا۔ یہ کیسا خزانہ تھا؟ جمشید کو اپنے نیک نام، حاجی باپ کا چہرہ یاد آیا۔ چاچا بہرام کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ پھیلی۔ ”مل گیا خزانہ؟ یا باپ کی کوئی اور کاریگری؟“
پھر جیسے جمشید کے ذہن میں سب کچھ جڑ گیا۔ اپنے والد کی دوسری بغیر جھگڑے والی زمین جو سال بھر ہری بھری رہتی تھی، گاؤں کے کنویں جو پچھلی دہائی میں ایک ایک کرکے سوکھ گئے تھے، اور اس کے خاندان کی وہ خوشحالی جو معجزے کی طرح گاؤں پر اتری تھی۔ یہ معجزہ نہیں تھا، یہ چوری تھی۔ بھیڑ میں کھڑے ایک بوڑھے نے کانپتی آواز میں کہا، ”ہمارے کنویں۔۔۔“ بات ادھوری تھی لیکن سب سمجھ گئے تھے۔
بہرام نے مسواک زمین پر تھوکی۔ ”تیرے باپ نے زمین کا نہیں، ہم سب کا سینہ چیرا تھا۔ اس نے راتوں کو یہ پمپ چلا کر پورے گاؤں کا پانی کھینچا اور اپنی جیبیں بھریں۔“ جمشید کے سامنے دو راستے تھے۔ ڈھکن واپس رکھ کر اپنے باپ کا بھرم رکھ لے، یا۔۔۔ اس نے ہجوم کے پیاسے، غصے سے بھرے چہروں کو دیکھا۔ اس کی نظر پاس ہی پتھروں کے ڈھیر میں چھپائے گئے جنریٹر پر پڑی۔ اس کا مالی قرض اب اس گناہ کے بوجھ کے سامنے بے معنی تھا۔
وہ اٹھا، جنریٹر کی طرف بڑھا، اور کانپتے ہاتھوں سے کیبل کا پلگ ساکٹ میں ٹھونس دیا۔ ایک کلک کی آواز آئی۔ اس نے سوئچ دبایا۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد زمین کے سینے سے ایک گہری گھن گرج سنائی دی اور پھر۔۔۔ پانی کا ایک طاقتور، شفاف دھارا پوری قوت سے ابل پڑا۔ یہ زندگی کی نہیں، ذلت کی آواز تھی۔ پانی جمشید کے پیروں کو بھگو رہا تھا، اس کے باپ کے نام پر لگی عزت کی دھول کو ہمیشہ کے لیے بہا کر لے جا رہا تھا۔ نقشے پر آخری نقطہ خزانہ نہیں تھا، خاندان کا کتبہ تھا۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔
