اس نے کہا، 'تمہارے ساتھ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا'، اور میرے کنگن نے ہلکی سی وائبریشن کی، جیسے وہ بھی اتفاق کر رہا ہو۔ کامران کی مسکراہٹ ہمیشہ کی طرح پرفیکٹ تھی، اس کے مہنگے عود کی خوشبو F-7 کے اس کیفے کی کافی کی مہک پر حاوی ہو رہی تھی۔ میں نے میز پر بنے جیومیٹرک پیٹرن پر انگلی پھیری۔ "تمہیں اپنا فری لانس ڈیزائن کا کام چھوڑ دینا چاہیے،" اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ "شادی کے بعد کیا ضرورت ہے؟" مجھے اعتراض کرنا چاہیے تھا، غصہ آنا چاہیے تھا، لیکن عجیب سی پرسکون کیفیت طاری تھی۔ میرے دل کی دھڑکن بھی ایک سر میں چل رہی تھی، جیسے کنگن اسے کوئی لوری سنا رہا ہو۔
"یہ سونا نہیں ہے، اس میں ٹنگسٹن مکس ہے وزن کے لیے،" زویا نے کنگن کو اپنی انگلیوں پر تولتے ہوئے کہا۔ ہم ہاسٹل کے کمرے میں تھے۔ اس کے ہاتھ میں بال پین کا چبایا ہوا ڈھکن تھا۔ "اور یہ اینگریونگ لیزر سے ہوئی ہے، لیکن ڈیزائن میں ایک مائیکرو سم ٹرے چھپائی گئی ہے۔ بہت صفائی سے۔" میں نے ہنس کر ٹالنے کی کوشش کی۔ "زویا، ہر چیز میں سازش مت ڈھونڈا کرو۔ وہ بس ایک تحفہ ہے۔" اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا، "ہر سسٹم کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے، ثانیہ۔ مجھے صرف پندرہ منٹ دو، میں اس کا فرم ویئر چیک کرنا چاہتی ہوں۔"
پندرہ منٹ بعد میں اس کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر اپنی زندگی کا گراف دیکھ رہی تھی۔ ہارٹ ریٹ، سکن ٹمپریچر، ایڈرینالین لیولز۔ سب کچھ ایک صاف ستھرے ڈیش بورڈ پر نظر آ رہا تھا، جسے کامران دنیا میں کہیں بھی اپنے فون پر دیکھ سکتا تھا۔ میرے گلے میں ایک ٹھنڈا گولا اٹک گیا۔ یہ تحفہ نہیں تھا، یہ ایک ہائی ٹیک پنجرہ تھا۔ "رکو،" زویا نے کہا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ "یہ صرف 'ریڈ' نہیں کر رہا۔ یہاں ایک آؤٹ پٹ لاگ بھی ہے۔ یہ ڈیوائس تمہیں سگنل بھیج رہی ہے۔"
اس نے کچھ کوڈ کی لائنیں دکھائیں۔ "الٹراسونک پلسز۔ بہت لو فریکوئنسی پر۔" اس نے میری طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ترس اور ایک خوفناک سی تسلی تھی۔ "یہ تمہارے کارٹیسول لیولز کو دبا رہی ہیں، ثانیہ۔ اسٹریس ہارمون کو۔ اور سیروٹونن کو ہلکا سا بڑھا رہی ہیں۔ یہ تمہارے جذبات کو صرف پڑھ نہیں رہی، یہ انہیں لکھ رہی ہے۔ یہ تمہیں اس کی موجودگی کا عادی بنا رہی ہے۔" اور ایک دم مجھے سب کچھ سمجھ آ گیا۔ وہ عجیب سا سکون، وہ بغیر سوچے سمجھے مان لینا، وہ بحث کرنے کی ہمت کا ٹوٹنا۔ وہ محبت نہیں تھی، وہ پروگرامنگ تھی۔
"ہم اسے بے نقاب کریں گے،" زویا نے غصے سے کہا۔ "اس کا سارا ڈیٹا آن لائن لیک کر دیں گے۔" میں نے اسکرین پر اپنے دل کی بدلتی ہوئی دھڑکن کو دیکھا، جو اب خوف سے تیز ہو چکی تھی۔ میرے سامنے دو راستے تھے۔ ایک اسکینڈل، ٹوٹا ہوا رشتہ، خاندان کی ذلت۔ اور دوسرا... دوسرا ایک ایسا راستہ تھا جو زیادہ خطرناک تھا۔ پرانا محاورہ ذہن میں گونجا: لوہا لوہے کو کاٹتا ہے۔ "نہیں،" میں نے کہا، میری آواز میں وہ سکون تھا جو کنگن نے نہیں، میرے اپنے فیصلے نے پیدا کیا تھا۔ "ہم کچھ بھی لیک نہیں کریں گے۔"
میں نے زویا کی طرف دیکھا۔ "کیا تم... کیا تم اس ڈیٹا کو بدل سکتی ہو جو اسے بھیجا جا رہا ہے؟" زویا ایک لمحے کے لیے خاموش ہوگئی، میرے ارادے کو بھانپ گئی۔ "مطلب؟" "مطلب جب میں غصے میں ہوں، تو یہ اسے بتائے کہ میں خوش ہوں۔ جب وہ کوئی قابو کرنے والی بات کرے، تو میرے دل کی دھڑکن پرسکون رہے۔ کیا ہم اسے وہ دکھا سکتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتا ہے؟" زویا نے سر ہلایا۔ میں نے ٹھنڈا، بھاری کنگن واپس اپنی کلائی پر پہنا۔ اب یہ پنجرہ نہیں، ایک ہتھیار محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے آئینے میں دیکھ کر مسکرانے کی پریکٹس کی اور زویا کے لیپ ٹاپ پر 'خوشی' کے گراف کو سو فیصد پر جاتے دیکھا۔ اسے میرا جواب مجھ سے پہلے پتہ تھا، لیکن اب اسے صرف وہی جواب ملے گا جو میں اسے سنانا چاہتی تھی۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔
