پیسوں کی گنتی ختم کر کے بھی، زویا نے لفافہ ہاتھ میں پکڑے رکھا، جیسے اس میں نوٹوں کے علاوہ بھی کچھ تھا۔ کرارے، کڑکتے ہوئے نوٹوں کی مخصوص خوشبو کے نیچے، ایک اور مہک چھپی ہوئی تھی، میٹھی، انجان، اور کبھی نہ بھولنے والی۔ اس نے احتیاط سے لفافے کے اندر ہاتھ ڈالا اور شیشے کی ایک چھوٹی سی شیشی نکالی۔ اس مہینے ’عود‘ تھا۔ پچھلے مہینے ’سِٹرس‘ تھا، اور اس سے پہلے کچھ پھولوں جیسا۔
یہ پچھلے چھ مہینوں سے ہو رہا تھا۔ ریاض سے رضوان ہر مہینے جو پیسے بھیجتا، اس کے ساتھ یہ چھوٹا سا تحفہ بھی ہوتا۔ ایک خاموش پیغام، جو ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے اس کے گاؤں کے بند کمرے تک پہنچتا تھا۔ یہ خوشبو والا میسج کہتا تھا: تم یاد آتی ہو، تم خاص ہو، میں بدل گیا ہوں۔
اور زویا نے یقین کر لیا تھا۔ وہ یوٹیوب پر انگریزی بولنے کی مشق کرتی، ان فقروں کو دہراتی جو اسے لگتا تھا کہ یوکے ویزا انٹرویو میں کام آئیں گے۔ رضوان نے وعدہ کیا تھا، سعودی عرب بس ایک پڑاؤ ہے۔ اصل منزل لندن ہے۔ وہ ویڈیو کال پر رضوان کے لیے تیار ہوتی، بالوں میں پھول لگاتی، اور ہلکا سا پرفیوم چھڑک لیتی۔
رضوان کال پر تھکا ہوا لگتا۔ اس کی واٹس ایپ ڈی پی ہمیشہ کسی دوست کی مانگی ہوئی مہنگی گاڑی کے ساتھ ہوتی، مگر اس کے وائس نوٹس میں پیچھے چلتے انڈسٹریل اے سی کا شور اس کی اصلیت بتا دیتا تھا۔ وہ پیسوں کی، انویسٹمنٹ کی، پلاٹوں کی باتیں کرتا۔ وہ کبھی نہیں پوچھتا تھا کہ لوڈ شیڈنگ میں چھت پر لگے سولر پینل کے نیچے اکیلی رات کیسی گزرتی ہے، یا انورٹر کی مسلسل ’ہوں‘ کی آواز کتنی ڈراؤنی لگتی ہے۔
گوجرانوالہ کے ریل بازار کی ایک تنگ گلی میں، کاشف اپنی الیکٹرانکس کی دکان میں بیٹھا ایک رسید کے پیچھے پنسل سے خاکہ بنا رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک چھوٹا سا پنجرہ تھا جس میں اس کا طوطا ’مٹھو‘ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ کاشف نے دراز کھولا، پرفیوم کے سیمپلز کا ڈبہ نکالا، اور ایک شیشی اٹھا لی۔ یہ اس کا عشق تھا۔ ایک محفوظ، معصوم سا، اور یکطرفہ عشق۔ وہ زویا کی ہر مہینے کی رقم نکالتا، اس میں احتیاط سے پرفیوم کی شیشی رکھتا، اور لفافے کو اپنے بھروسے مند کوریئر والے کے حوالے کر دیتا۔ وہ خود کو سمجھاتا تھا کہ یہ کوئی گناہ نہیں، یہ تو خالص محبت کا اظہار ہے۔ وہ زویا کو اس کے شوہر سے بہتر سمجھتا تھا، اس کی تنہائی کو محسوس کرتا تھا۔
ایک رات رضوان کی کال آئی۔ اس کی آواز میں ٹینشن تھی۔ ”زویا، ایک بہت بڑی پارٹی ہاتھ لگی ہے۔ لاہور میں ایک نئی سوسائٹی کی فائل ہے۔ دو مہینے میں پیسے ڈبل۔“ وہ جلدی جلدی بول رہا تھا۔ ”بس کچھ رقم کم پڑ گئی ہے۔ اگر تم وہاں سے کچھ انتظام کر سکو۔۔۔“
زویا کا دل دھڑکنے لگا۔ یہ ایک موقع تھا۔ صرف ایک پلاٹ میں نہیں، بلکہ اپنے مستقبل میں انویسٹمنٹ کرنے کا۔ اس رشتے کو بچانے کا جو مہکتی ہوئی شیشیوں میں دوبارہ زندہ ہو رہا تھا۔ اس نے کوئی سوال نہیں کیا۔ اس نے کہا، ”ہو جائے گا۔“
اس رات وہ بہت دیر تک اپنی ماں کے پرانے صندوق کے پاس بیٹھی رہی۔ اس نے کانوں کی وہ سونے کی بالیاں نکالیں جو اس کی ماں کی آخری نشانی تھیں۔ اگلے دن، اس نے بالیاں بیچ دیں۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ وہ کیا کھو رہی ہے، صرف یہ سوچا کہ وہ کیا پانے والی ہے۔
وہ خود پیسے لے کر گوجرانوالہ گئی۔ کاشف کی دکان میں سولڈر اور دھول کی ملی جلی بو تھی۔ زویا نے پیسے کاشف کے حوالے کیے۔ اس کی نظر کاشف کی میز پر پڑی۔ کاغذات کے ڈھیر کے بیچ ایک سستا سا پین پڑا تھا جس کی سیاہی لیک ہو رہی تھی۔ اس نے نوٹ پیڈ پر ایک ستارے جیسا عجیب سا دھبہ بنا دیا تھا۔ یہ ایک معمولی سی بات تھی جو اس کے ذہن میں کہیں رہ گئی۔ کاشف نے پیسے گنتے ہوئے ایک بار بھی اس سے نظر نہیں ملائی۔
وہ دن امید اور انتظار میں گزرنے لگے۔ زویا نے اپنے خوابوں کا تانا بانا بننا شروع کر دیا تھا۔ لندن کا ایک چھوٹا سا فلیٹ، رضوان کے ساتھ شام کی چائے، اور ایک ایسی زندگی جہاں انورٹر کا شور نہ ہو۔ اب اسے انتظار تھا کہ کب رضوان خوشخبری سنائے گا۔
عید سے دو دن پہلے دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے سوچا کوئی پڑوسی ہوگا، لیکن دروازے پر رضوان کھڑا تھا۔ بغیر کسی اطلاع کے، بغیر کسی فون کال کے۔ وہ دبلا، تھکا ہوا اور ہارا ہوا لگ رہا تھا۔ اس کی کلائی پر وہ مہنگی گھڑی نہیں تھی جو ڈی پی میں ہوتی تھی۔ ”تمہیں سرپرائز دینا تھا،“ وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا۔
اس رات زویا نے خود کو بڑی چاہ سے تیار کیا۔ اس نے وہ تازہ ترین پرفیوم لگایا جو پچھلے ہفتے ہی آیا تھا۔ پھولوں کی نرم، میٹھی خوشبو۔ اس کے دل میں برسوں کی پیاسی محبت جاگ رہی تھی۔ وہ رضوان کے پاس گئی، اس یقین کے ساتھ کہ آج سارے فاصلے مٹ جائیں گے۔
مگر رضوان نے اسے گلے لگانے کی بجائے اپنی ناک سکوڑ لی۔ ”یہ کیسی تیز خوشبو لگائی ہوئی ہے؟ سر میں درد ہو رہا ہے۔“ اس نے چڑچڑے پن سے کہا، جیسے کسی اجنبی سے بات کر رہا ہو۔
ایک لمحے میں سب کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ یہ صرف اس کا انکار نہیں تھا۔ یہ اس بات کا صدمہ تھا کہ وہ اسے پہچانتا ہی نہیں تھا۔ جس شخص نے بظاہر اس کے لیے یہ خوشبو چنی تھی، وہ اسے پہچانتا تک نہیں تھا۔ مہینوں سے شیشی در شیشی تعمیر کی گئی محبت کی پوری عمارت ایک جملے میں ڈھے گئی۔
کچھ دن بعد، جب وہ رضوان کا اکلوتا، پرانا سا سوٹ کیس خالی کر رہی تھی، اسے کمپنی کا نوکری سے نکالے جانے کا لیٹر ملا۔ ویزا منسوخ ہو چکا تھا۔ سارا سچ بہانوں اور الزامات کے طوفان میں سامنے آ گیا۔ وہ کنگال ہو چکا تھا۔ پلاٹ کی فائل ایک جھوٹ تھی، جو پرانے قرضے اتارنے کے لیے بولا گیا تھا۔
جیسے ہی رضوان بول رہا تھا، زویا نے بے دلی سے دراز کھولا جہاں وہ پیسے والے لفافے رکھتی تھی۔ اس نے ایک لفافہ اٹھایا۔ اس کے کونے پر وہی ستارے کی شکل کا سیاہی کا دھبہ تھا۔ ایک ایک کر کے اس نے سارے لفافے دیکھے، سب پر وہی نشان تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کاشف کی میز، اس کا لیک ہوتا ہوا پین اور نوٹ پیڈ گھوم گیا۔
اب مسئلہ ایک دور بیٹھے شوہر کی تنہائی کا نہیں تھا۔ اب مسئلہ گھر کے اندر موجود ایک کنگال، ناکام اور اجنبی شخص کا تھا۔ اس نے اپنی آخری امانت ایک ایسے وہم پر قربان کر دی تھی جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اور ایک دوسرا شخص، ایک اجنبی، اس کی سب سے گہری، سب سے خفیہ خواہشات سے واقف تھا۔
گھر ایک پریشر ککر بن چکا تھا، جو خاموشی، قرض اور نہ کہی گئی باتوں سے بھرا ہوا تھا۔ سولر پینل کی چھت اب پناہ گاہ نہیں، ایک قید خانہ لگتی تھی۔
کئی ہفتے گزر گئے۔ ایک دوپہر، زویا نے چادر اوڑھی۔ ”میں شہر جا رہی ہوں، پانی والی موٹر کا سامان لانا ہے،“ اس نے رضوان سے سپاٹ لہجے میں کہا۔
وہ سیدھا گوجرانوالہ، کاشف کی دکان پر پہنچی۔ وہ وہیں بیٹھا تھا، ایک رسید کے پیچھے کچھ بنا رہا تھا۔ اس نے زویا کو دیکھا اور اس کے ہاتھ سے پنسل چھوٹ گئی۔ وہ ایسے سن ہو گیا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔
فضا میں ہر وہ لفظ موجود تھا جو کہا نہیں جا سکتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زویا جانتی ہے۔ اور زویا جانتی تھی کہ وہ جانتا ہے۔
کاشف نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، شاید معافی مانگنے کے لیے، یا کوئی وضاحت دینے کے لیے۔ زویا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔ اس کی نظر کاشف کے پیچھے کاؤنٹر پر قطار میں رکھی پرفیوم کی چھوٹی چھوٹی شیشیوں پر پڑی۔ پھر اس نے کاشف کو دیکھا۔
”کاشف بھائی، اگلے مہینے کی کمیٹی کے پیسے بھجوانے تھے۔“
اس کی آواز میں کوئی احساس نہیں تھا۔ نہ غصہ، نہ نفرت، نہ منت۔ اس نے اسے شرمندہ نہیں کیا۔ اس نے ایک عام سا، روزمرہ کا سودا کیا، اور اس پورے جھوٹ کو زندہ رہنے دیا۔ کیا یہ سچائی پر ایک خوبصورت فریب کی فتح تھی؟ کیا یہ اس کی خاموش طاقت کا اظہار تھا کہ اب اختیار اس کے ہاتھ میں ہے؟ یا یہ ایک ایسی عورت کی مکمل شکست تھی جسے اب ایک جھوٹ کے سہارے کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا تھا؟
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔
