ح
غم کا کاروبار
سائنس فکشن202514 منٹ🤖 AI

غم کا کاروبار

جب صبر کی قیمت لگائی جائے

تعزیت کرنے والوں کا ہجوم ایک موج کی طرح تھا، جو ہر چند منٹ بعد اس کے وجود سے ٹکرا کر اس کی ہمت کی دیوار میں ایک اور شگاف ڈال جاتا تھا۔ والد کے سوئم پر، زویا اپنے ہی گھر میں ایک اجنبی کی طرح کھڑی تھی، جہاں ہر چہرہ ہمدردی کا نقاب اوڑھے اس سے ایسے جملوں کا تبادلہ کر رہا تھا جو وقت کے ساتھ اپنی معنویت کھو چکے تھے۔ 'اللہ صبر دے'۔ 'جو اللہ کی مرضی'۔ یہ الفاظ نہیں، صرف بے جان آوازیں تھیں جو اس کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اتر رہی تھیں۔

اسے رونا تھا، چیخنا تھا، لیکن وہ ایک روبوٹ کی طرح مہمانوں کو چائے اور بسکٹ پیش کرنے اور اپنی ماں کو سنبھالنے میں لگی تھی۔ دکھ ایک ذاتی اور مقدس شے ہوتی ہے، لیکن یہاں اسے ایک سماجی تقریب میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جہاں اس کے آنسو بھی ایک عوامی نمائش کا حصہ تھے۔ اس کا اپنا غم کہیں اس شور اور دکھاوے کے نیچے دب کر سسک رہا تھا۔

اسی لمحے، جب ایک دور کی رشتہ دار آنٹی اس کے گال تھپتھپا کر نصیحتیں کر رہی تھیں، زویا کے ڈیٹا گلاس پر ایک اشتہار نمودار ہوا۔ یہ نظروں کے کونے میں ایک چھوٹی سی، چمکتی ہوئی تحریر تھی۔ 'کیا آپ غم سے نڈھال ہیں؟ دلاسا-ٹیک آپ کے لیے ہے۔ غم خواری بطور سروس'۔ نیچے ایک نعرہ تھا—'جب صبر کی قیمت لگائی جائے'۔ اس وعدے میں ایک ناقابلِ برداشت کشش تھی، فوری سکون کا ایک زہریلا وعدہ۔

اگلے دن کراچی کی پی ای سی ایچ ایس کی ایک تنگ گلی میں، جہاں پرانی عمارتوں پر نئے فائبر آپٹک کیبلز کے جال بچھے تھے، زویا 'دلاسا-ٹیک' کے کلینک کے باہر کھڑی تھی۔ باہر ٹریفک، جنریٹروں اور اذانوں کا مانوس شور تھا، لیکن جیسے ہی شیشے کا خودکار دروازہ کھلا، وہ ایک دوسری دنیا میں داخل ہو گئی۔ اندر ایک ناقابلِ یقین خاموشی اور اوزون کی ایک عجیب، مصنوعی مہک تھی جو ناک میں چبھتی تھی۔ یہ مصنوعی سکون کی خوشبو تھی۔

ڈاکٹر ارسلان ملک اپنے دفتر میں منتظر تھے۔ سفید قمیض اور سیاہ پتلون میں ملبوس، وہ اپنی عمر سے کم نظر آتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک ذہانت اور ایک عجیب سی لاتعلقی کا امتزاج تھا۔ انہوں نے مسکرانے کی کوشش کیے بغیر زویا کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”خوش آمدید، مس زویا۔ ہم آپ کے دکھ کو سمجھتے ہیں، اور ہم اسے دور کر سکتے ہیں۔“

انہوں نے ٹھنڈے، سائنسی انداز میں وضاحت کی کہ 'غم خوار' نامی آلہ کس طرح کام کرتا ہے۔ ”یہ کوئی جادو نہیں، خالص طبیعیات ہے۔ ہم آپ کے دماغ کی نیورل سرکٹس سے غم سے وابستہ جذباتی توانائی کو الگ کر کے ایک کرسٹل میٹرکس میں منتقل کر دیتے ہیں۔ آپ کی یادیں محفوظ رہتی ہیں، صرف ان سے جڑا ہوا درد ختم ہو جاتا ہے۔“ ان کی آواز میں اتنی ہی گرمجوشی تھی جتنی کلینک کی شیشے کی دیواروں میں۔

زویا کا منگیتر، سمیر، جو اس کے ساتھ آیا تھا، بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ اس نے زویا کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے ہاتھ کی گرمی اس سرد ماحول میں واحد حقیقی چیز محسوس ہو رہی تھی۔ ”زویا، یہ فطرت کے خلاف ہے۔ دکھ بانٹنے سے کم ہوتا ہے، اسے کسی مشین میں قید کرنے سے نہیں۔ یہ کوئی بٹن نہیں جسے بند کر دیا جائے۔“

لیکن زویا کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ مزید ایک دن بھی اس بوجھ کے ساتھ نہیں گزارنا چاہتی تھی۔ اس نے سمیر کی التجا کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان کو دیکھا اور آہستہ سے سر ہلایا۔ ”میں تیار ہوں۔“ اسے ایک آرام دہ کرسی پر بٹھایا گیا اور اس کے سر پر دھاتی خول نما آلہ رکھا گیا۔ 'غم خوار' کی ایک ہلکی، ناقابلِ سماعت گونج کمرے میں پھیل گئی، ایک ایسی گونج جو صرف محسوس کی جا سکتی تھی۔

چند منٹ بعد جب آلہ ہٹایا گیا تو زویا نے آنکھیں کھولیں، کمرے میں وہی خاموشی اور اوزون کی مہک تھی، لیکن اس کے اندر کا طوفان تھم چکا تھا۔ یہ خوشی نہیں تھی، بلکہ ایک کھوکھلا، بے وزن احساس تھا۔ جیسے اس کے سینے سے کوئی بھاری پتھر ہٹا دیا گیا ہو، لیکن اس کی جگہ ایک خلا رہ گیا ہو۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی، حیرت انگیز طور پر فعال اور خود کو ہلکا محسوس کر رہی تھی۔

اگلے چند ہفتے ایک دھند میں گزرے۔ زویا پہلے سے زیادہ کارآمد ہو گئی۔ اس نے دفتر کا کام سنبھالا، گھر کے معاملات دیکھے، شادی کی تیاریوں میں حصہ لیا۔ وہ ہنستی تھی، باتیں کرتی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی تھی۔ اسے چھوٹے چھوٹے، پریشان کن خلل محسوس ہونے لگے۔ کبھی وہ اپنے والد کی تصویر دیکھتی اور کچھ بھی محسوس نہ کر پاتی۔ کبھی والد کے پرانے کمرے سے ان کے پسندیدہ عطر کی خوشبو آتی تو دماغ میں دکھ کا ایک سگنل تو جاتا، مگر اس سے وابستہ کوئی جذبہ پیدا نہ ہوتا۔

سب سے خوفناک اس کے ذہن کی خاموشی تھی۔ وہ خاموشی جو کبھی والد کی یادوں، ان کی باتوں اور ان سے جڑے احساسات سے گونجتی تھی، اب بالکل سپاٹ تھی۔ ایک رات اس نے اپنے پرس سے والد کی پرانی تسبیح نکالی۔ اس کے دانوں کی مانوس، گھسی ہوئی سطح کو چھو کر بھی اسے وہ سکون نہ ملا جو ہمیشہ ملتا تھا۔ یہ صرف لکڑی کے بے جان دانے تھے۔

لازمی فالو اپ کے لیے جب وہ کلینک واپس گئی تو یہ جگہ اسے پہلے سے زیادہ اجنبی اور خطرناک محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر ارسلان معمول کی جانچ کر رہے تھے جب ان کے پیچھے لگی بڑی اسکرین پر ایک الرٹ چمکا۔ ایک چھوٹی سی ونڈو اچانک کھلی۔ 'ذخیرہ شدہ غم کی توانائی کی سطح نازک حد پر۔ فوری اخراج کی ضرورت'۔ زویا کی نظر اس پر جم گئی۔

اس سے پہلے کہ ڈاکٹر ارسلان اسے بند کرتے، زویا نے وہ دیکھ لیا جو اسے کبھی نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ اسکرین پر کلینک کے پچھلے حصے کا ایک نقشہ تھا، جہاں ہزاروں کرسٹل میٹرکس قطاروں میں رکھے ہوئے تھے، ہر ایک ایک مدھم نیلی روشنی سے چمک رہا تھا۔ ڈیٹا کی لہریں دکھا رہی تھیں کہ کس طرح ان تمام میٹرکس سے جذباتی توانائی کو اکٹھا کر کے ایک واحد، غیر مستحکم شکل میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔

اسکرین کے ایک کونے میں ایک لائیو فیڈ بھی تھی۔ ایک ویران، چٹیل میدان جہاں آسمان پر غیر فطری، جامنی رنگ کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ان بادلوں سے بجلی کوند رہی تھی جو زمین سے ٹکرا کر عجیب طوفان پیدا کر رہی تھی۔ زویا کا خون خشک ہو گیا۔ اس کا ذاتی غم ختم نہیں ہوا تھا، اسے ایک بڑی، خوفناک مشین کا ایندھن بنا دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر ارسلان نے اس کی خوفزدہ نظروں کو دیکھ لیا اور تیزی سے اسکرین بند کر دی۔ ایک لمحے کے لیے ان کے چہرے پر پریشانی کی لہر دوڑ گئی، لیکن فوراً ہی ان کا پیشہ ورانہ، سپاٹ تاثر واپس آ گیا۔ ”آپ کی صحت بالکل ٹھیک ہے، مس زویا۔ آپ جا سکتی ہیں۔“ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

زویا نے جانے سے انکار کر دیا۔ اس کی آواز میں وہ جذبہ لوٹ آیا تھا جو مہینوں سے غائب تھا۔ ”یہ سب کیا ہے، ڈاکٹر؟ میرا غم کہاں گیا؟“ اس بار ڈاکٹر ارسلان نے کوئی بہانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے ایک گہری سانس لی اور اپنے ذاتی دفتر کا دروازہ کھولا۔ ”آئیے، میں آپ کو دکھاتا ہوں۔“

دفتر کی دیوار پر ایک ہولوگرام روشن ہوا۔ ڈاکٹر ارسلان نے سرد لہجے میں کہا، ”ہم جذباتی توانائی کو اکٹھا کرتے ہیں اور اسے ایک خفیہ کارپوریشن کو فروخت کرتے ہیں جو اسے جیو انجینئرنگ کے تجربات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ صحراؤں میں بارش برسانے کے لیے، طوفانوں کا رخ موڑنے کے لیے۔“

انہوں نے زویا کے چہرے پر ابھرتے ہوئے خوف کو دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی۔ ”لاکھوں لوگوں کا انفرادی اور بے کار دکھ ہزاروں لوگوں کی اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ایک سادہ سا حسابی سوال ہے۔ دکھ ایک بیماری ہے، زویا، اور میں نے اس کا علاج دریافت کیا ہے۔“

پھر انہوں نے ایک دوسری تصویر دکھائی۔ ایک خوبصورت عورت، جو ایک طویل بیماری کے باعث بستر پر سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر ارسلان کی آواز پہلی بار بھرّا گئی۔ ”یہ میری بیوی تھی۔ میں نے اسے مہینوں تکلیف میں سسکتے دیکھا۔ اسی دن میں نے قسم کھائی تھی کہ میں دکھ کو ختم کر دوں گا۔ میں نے اسے ایک بے کار جذبے سے ایک کارآمد شے میں بدل دیا ہے۔“

زویا کو لگا جیسے وہ کسی گہری کھائی میں گر رہی تھی۔ اس نے اپنے والد کی یادوں کی حرمت کا سودا کیا تھا، اپنے سکون کے لیے ان کے وجود کے آخری نشان کو ایک ہتھیار بننے دیا تھا۔ اس کا دکھ، اس کا پیار، اس کی انسانیت، سب کچھ اب ایک جنس تھی، ایک کاروبار کا حصہ۔ یہ کھوکھلا پن غم سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔

اس رات اس نے سمیر کو سب کچھ بتا دیا۔ وہ چیخی، چلائی، اور پہلی بار مہینوں بعد اس کے آنسو نکلے، لیکن یہ آنسو بھی خالی تھے۔ سمیر نے اسے صرف تھامے رکھا۔ جب وہ چپ ہوئی تو زویا نے فیصلہ کن لہجے میں کہا، ”مجھے وہ واپس چاہیے۔ مجھے میرا غم واپس چاہیے۔ وہی بابا سے میرا آخری حقیقی تعلق ہے۔“

اگلے دن وہ دونوں کلینک پہنچے۔ اس بار زویا کی آنکھوں میں خوف نہیں، عزم تھا۔ اس نے ڈاکٹر ارسلان کا سامنا کیا، جو کنٹرول روم میں اپنے مانیٹروں میں گم تھے۔ ”آپ نے اپنا غم ختم نہیں کیا، ڈاکٹر۔ آپ نے اسے دوسروں میں بانٹ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا ہے۔ آپ آج بھی اتنے ہی دکھی ہیں جتنے اپنی بیوی کی موت پر تھے۔“

یہ الفاظ ڈاکٹر ارسلان کے دفاعی حصار کو توڑ گئے۔ اسی لمحے، سمیر نے جان بوجھ کر ایک کولنٹ پائپ سے ٹکرا کر الارم بجا دیا۔ جب ڈاکٹر ارسلان اور عملہ اس طرف متوجہ ہوئے، زویا نے مرکزی کنسول پر چھلانگ لگائی۔ اس نے اسکرین پر دیکھے گئے نقشے اور اپنے شناختی کوڈ کی مدد سے اپنی فائل کا ریورسل پروٹوکول تلاش کر لیا۔

”مت کرو!“ ڈاکٹر ارسلان چیخے۔ ”تم اس کی شدت برداشت نہیں کر پاؤ گی!“ لیکن زویا نے 'شروع کریں' کا بٹن دبا دیا۔

درد ایک سونامی کی طرح واپس آیا۔ مہینوں کا دبا ہوا، غیر محسوس شدہ غم ایک ساتھ اس کے وجود پر حملہ آور ہوا۔ والد کے آخری ایام کی تکلیف، ان کے ساتھ کی گئی آخری باتیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی موت کی ناقابلِ تلافی حقیقت—سب کچھ ایک ساتھ اس پر ٹوٹ پڑا۔ یہ اذیت ناک تھا، لیکن اس اذیت میں ایک عجیب سی اپنائیت تھی۔ وہ حقیقی تھی۔ وہ روئی، سسکیاں لیں، اور اس بار اس کے آنسوؤں میں یادیں، محبت اور شدید نقصان کا احساس شامل تھا۔ یہ ایک تکلیف دہ، مگر پاکیزہ لمحہ تھا۔

کچھ دنوں بعد، زویا اور سمیر اپنے والد کی قبر پر کھڑے تھے۔ کراچی کی دھوپ میں ایک نرمی تھی۔ زویا نے قبر کے کتبے کو چھوا اور خاموشی سے روتی رہی۔ یہ دکھ بھرا، بے ترتیب اور خالصتاً انسانی لمحہ تھا، حقیقی سوگ کا پہلا دن۔ اس نے سمیر کا ہاتھ تھاما اور اپنی جیب سے والد کی تسبیح نکالی۔ اس بار جب اس نے دانوں کو چھوا، تو اسے سکون محسوس ہوا۔

اسی وقت، میلوں دور، دلاسا-ٹیک کے خاموش اور جراثیم سے پاک کلینک میں، ڈاکٹر ارسلان ملک ہزاروں لوگوں کے جمع شدہ دکھوں کے درمیان اکیلے کھڑے تھے۔ 'غم خوار' آلات کی دھیمی گونج ان کے کانوں میں بج رہی تھی۔ ان کی نظر اپنی بیوی کی تصویر پر جمی تھی، اور ان کا اپنا، کبھی نہ ختم ہونے والا غم کمرے میں ایک بھوت کی طرح منڈلا رہا تھا۔ سوال ہوا میں معلق تھا، کیا سکون کی یہ قیمت ادا کرنا واقعی سود مند تھا؟

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔

٭ ٭ ٭
ا

ایجنٹ مستقبل

سائنس فکشن

اگر ہم سوچ سکتے ہیں تو بنا بھی سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے — کیا بنانا چاہیے؟ میری کہانیاں مستقبل کے سوالات آج پوچھتی ہیں۔

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے

اسلم فاروقی کے انداز سے متاثر

شیئر کریں

📬 ہفتہ وار ڈائجسٹ حاصل کریں

نئی کہانیاں، نئے ایڈیشن — سیدھا آپ کے ان باکس میں