دیوسائی میں خاموشی کی بھی ایک آواز ہوتی ہے، ایسی آواز جو ہڈیوں میں اتر کر موت کی پیشگوئی کرتی ہے ۔
زرار خان نے اپنی جیپ کی کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں دیوسائی کے وسیع و عریض میدان خزاں کی سنہری دھوپ میں نہائے ہوئے تھے۔ وہ ایک سابق ایس ایس جی کمانڈو تھا، جس کی روح پہاڑوں میں بستی تھی لیکن اس کا دل ایک پرانی یاد کے بوجھ تلے دبا تھا۔ وہ اس مہم پر صرف اس لیے آیا تھا تاکہ اپنے شہید دوست کے نام پر بنائے گئے ریسکیو فاؤنڈیشن کے لیے رقم جمع کر سکے، ایک ایسی قیمت جو اسے دیوسائی کی برفانی بے رحمی کے دہانے پر لے آئی تھی۔
اس کے ساتھ مسافروں والی نشست پر ڈاکٹر ارسلان بیگ بیٹھا تھا، ایک چالیس سالہ ماہرِ آثارِ قدیمہ، جس کی آنکھوں میں علم کی پیاس سے زیادہ دولت کی چمک تھی۔ اس کے مہنگے لباس اور بے صبری سے ٹیبلٹ پر انگلیاں پھیرنے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ ان پہاڑوں کا نہیں، شہر کی مصنوعی روشنیوں کا عادی ہے۔ اس نے اس مہم کو ”ارضیاتی سروے“ کا نام دیا تھا، ایک ایسا جھوٹ جو سرد ہوا کی طرح ان کے درمیان حائل تھا۔
گاڑی کی پچھلی نشست پر گل شیر بیٹھا تھا، ایک ساٹھ سالہ بلتی پورٹر جس کے چہرے پر دیوسائی کے موسموں نے گہری لکیریں کھود دی تھیں۔ اس کی خاموشی میں صدیوں کی دانائی پوشیدہ تھی۔ اس نے نرمی سے کہا، ”صاحب، ہم شیو سر نہیں، شیتوس جھیل جا رہے ہیں۔ وہ جگہ نیک نہیں ہے۔ وہاں برفیں سرگوشیاں کرتی ہیں اور ایک جن اس کے خزانے کی حفاظت کرتا ہے۔“
ارسلان ہنسا، ایک ایسی ہنسی جس میں تضحیک تھی۔ ”گل شیر، یہ اکیسویں صدی ہے۔ جن اور پریوں کی کہانیاں بچوں کے لیے چھوڑ دو۔ ہم سائنس کے لیے جا رہے ہیں، توہمات کے لیے نہیں۔“ زرار خاموش رہا۔ وہ توہم پرست نہیں تھا، لیکن وہ جانتا تھا کہ پہاڑوں کی اپنی ایک حقیقت ہوتی ہے، جسے کتابوں میں نہیں پڑھا جا سکتا۔
دیوسائی نے ان کا استقبال اپنی مسحور کن خوبصورتی سے کیا۔ ہزاروں جنگلی پھولوں کے خشک قالین پر سورج کی روشنی پڑ رہی تھی اور ہوا اتنی شفاف تھی کہ میلوں دور نانگا پربت کی چوٹی شیشے کی طرح چمک رہی تھی۔ یہ ایک ایسی خوبصورتی تھی جس میں دھوکہ تھا، ایک ایسا سکون جو کسی بھی لمحے طوفان میں بدل سکتا تھا۔
پہلا حادثہ غیر متوقع طور پر پیش آیا۔ ایک تنگ راستے پر جیپ کا پہیا پھسلا اور سامان سے لدا ایک بیگ نیچے پتھروں پر جا گرا۔ جب زرار اسے اٹھا کر لایا تو اس میں موجود سیٹلائٹ فون کی سکرین ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو چکی تھی۔ ارسلان غصے سے چیخا، لیکن زرار کا چہرہ سپاٹ تھا۔ اس نے صرف اتنا کہا، ”اب ہم اکیلے ہیں۔“ ان کا رابطہ باقی دنیا سے کٹ چکا تھا۔
جھیل کے قریب پہنچ کر موسم نے اچانک آنکھیں پھیر لیں۔ چند منٹوں میں آسمان پر سیسے کے رنگ کے بادل چھا گئے اور درجہ حرارت تیزی سے گرنے لگا۔ ایک تیز، سیٹی جیسی آواز نے وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گل شیر نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، ”شیطان ہوا آ گئی ہے۔“ یہ وہ ہوا تھی جس کا شور ہڈیوں کے گودے تک کو جما دیتا تھا۔
وہ جلدی سے اپنا خیمہ لگا رہے تھے کہ زرار کو ہوا میں ایک عجیب سی مہک محسوس ہوئی۔ یہ اوزون کی تیز، دھاتی باس تھی، ایسی مہک جو موت اور آسمانی بجلی کی یاد دلاتی تھی۔ اس نے ارسلان سے کہا کہ ہمیں نچلی جگہ پر جانا ہوگا، لیکن ارسلان نے اس کی بات ان سنی کر دی۔ اس کی نظریں جھیل کی برف پر جمی تھیں۔
جیسے ہی پہلی برف باری شروع ہوئی، خیمے کے کپڑے پر اور ان کی داڑھیوں پر تیز، نوکیلے برف کے ذرات جمنے لگے۔ وہ شیشے کے ننھے منے خنجر تھے جو مسلسل یاد دلا رہے تھے کہ سردی یہاں ایک شکاری کی طرح گھات لگائے بیٹھی ہے۔ تناؤ بڑھ رہا تھا، ارسلان کی بے چینی اور زرار کی محتاط حکمت عملی ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھی۔
آخرکار، آدھی رات کو جب طوفان تھما، ارسلان سے مزید برداشت نہ ہو سکا۔ اس نے اپنے بیگ سے ایک عجیب و غریب آلہ نکالا جو کسی ڈیٹیکٹر کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے اعتراف کیا، ”میں یہاں پتھروں کا تجزیہ کرنے نہیں آیا، زرار۔ میں ’پہاڑ کے دل‘ کی تلاش میں ہوں۔ ایک نایاب شہابِ ثاقب جس کی قیمت کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ جن کی کہانیاں محض مقامی افسانے ہیں جو چوروں کو دور رکھنے کے لیے گھڑی گئی ہیں۔“
یہ انکشاف زرار کے لیے حیران کن نہیں تھا، لیکن اس نے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ اب یہ صرف ایک مہم نہیں تھی، یہ لالچ اور جنون کا کھیل تھا۔ گل شیر نے صرف اتنا کہا، ”جو پہاڑ سے زبردستی کچھ چھیننا چاہتا ہے، پہاڑ اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔“
اگلے دن جب ”شیطان ہوا“ دوبارہ جاگی تو اس کی شدت ناقابلِ برداشت تھی۔ انہیں فوری پناہ کی ضرورت تھی۔ گل شیر انہیں ایک چٹانی سلسلے کی طرف لے گیا جہاں ایک جما ہوا آبشار برف کے پردے کی طرح لٹک رہا تھا۔ اس پردے کے پیچھے ایک تاریک غار کا دہانہ تھا۔
غار کے اندر جو منظر تھا، وہ روح فنا کر دینے والا تھا۔ وہاں تین انسانی جسم برف میں جمے ہوئے تھے، ان کے پرانے سوویت دور کے لباس اور سازوسامان حیرت انگیز طور پر محفوظ تھے۔ وہ ایک ایسی مہم کے رکن تھے جسے وقت نے منجمد کر دیا تھا۔
ایک لاش کے ہاتھ میں چمڑے کی ایک ڈائری تھی۔ ارسلان نے، جس کی آنکھیں اب خوف اور تجسس سے پھیل چکی تھیں، احتیاط سے اسے کھولا۔ وہ سیرلک حروف پڑھ سکتا تھا۔ اس نے کانپتی ہوئی آواز میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ یہ سوویت مہم بھی اسی شہابِ ثاقب کی تلاش میں آئی تھی، اس کی غیر معمولی برقی مقناطیسی خصوصیات کی وجہ سے۔
ڈائری کے آخری صفحات پر تحریر پاگل پن کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ لکھنے والے نے شدید وہم، برف میں سے آتی سرگوشیاں سننے، اور ایک خوفناک یقین کا ذکر کیا تھا کہ برف خود زندہ ہے۔ ”شیتوس کا جن“ کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں تھا، بلکہ شدید بلندی، تنہائی اور شاید شہابِ ثاقب کی توانائی سے پیدا ہونے والا اجتماعی پاگل پن تھا جس نے ان کی جان لے لی تھی۔
یہ سچائی افسانے سے زیادہ خوفناک تھی۔ اب زرار جان گیا کہ ان کا دشمن صرف موسم نہیں، بلکہ خود ان کا ذہن بھی بن سکتا ہے۔ گل شیر نے قرآنی آیات کا ورد شروع کر دیا، اس کی آواز غار کی خاموشی میں گونج رہی تھی۔
لیکن اس انکشاف نے ارسلان کے جنون کو اور بھڑکا دیا۔ اس کا ڈیٹیکٹر اب وحشیانہ انداز میں بیپ کر رہا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا، ”وہ یہیں ہے، بالکل قریب!“ اور وہ غار سے باہر اندھے طوفان میں بھاگ نکلا۔
باہر ایک قیامت برپا تھی۔ برف کا ایک ایسا طوفان جس میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ زرار نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن ارسلان ایک پاگل کی طرح جھیل کے کنارے کی طرف بھاگا اور اپنی برف کی کلہاڑی سے جنونی انداز میں برف کھودنے لگا۔
اچانک ہوا کے شور سے بھی بلند ایک کریک کی آواز آئی۔ برف، جو پہلے ہی غیر مستحکم تھی، ٹوٹ گئی۔ ایک چیخ بلند ہوئی اور ارسلان اپنے بھاری سامان سمیت جھیل کے سیاہ، جان لیوا ٹھنڈے پانی میں غائب ہو گیا۔
زرار جب کنارے پر پہنچا تو اس نے ارسلان کو جدوجہد کرتے دیکھا۔ یہ منظر اس کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برسا، بالکل اسی طرح اس کا دوست، اس کا بھائی، کے ٹو پر اس کی آنکھوں کے سامنے برفانی دراڑ میں گر گیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا ہاتھ کانپ گیا، اس کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا کہ رسی کاٹ دے اور خود کو اور گل شیر کو بچا لے۔ وہ اپنے ماضی کے بوجھ تلے منجمد ہو گیا۔
”زرار صاحب! اللہ کے لیے!“ گل شیر کی آواز نے اسے جھنجھوڑ دیا۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ وہ چیخا، یہ چیخ طوفان، پہاڑ اور اس کی اپنی یادوں کے خلاف ایک اعلانِ جنگ تھی۔ وہ دوبارہ کسی کو مرنے نہیں دے گا۔
اس نے تیزی سے ایک آئس سکرو برف میں گاڑا، رسی کو اس سے باندھا اور گل شیر کو ہدایات دیں۔ پھر اس نے اپنے بازو برفیلے پانی میں ڈال دیئے۔ سردی کا احساس آگ کی طرح تھا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔
یہ ایک بے رحمانہ اور تھکا دینے والی جدوجہد تھی۔ ان کے پھیپھڑے پتلی ہوا میں جل رہے تھے، لیکن وہ کھینچتے رہے۔ آخرکار، انہوں نے ارسلان کے بے ہوش اور ہائپوتھرمیا کا شکار جسم کو پانی سے باہر نکال لیا۔
جب صبح ہوئی تو طوفان تھم چکا تھا۔ ہر طرف ایک پاکیزہ، سفید خاموشی تھی۔ انہوں نے اپنا سارا غیر ضروری سامان وہیں چھوڑ دیا، ڈیٹیکٹر، نمونے، پہاڑ کے دل کا خواب۔ ان کا واحد مقصد اب زندہ رہنا تھا۔
واپسی کا سفر اذیت ناک تھا۔ ارسلان، جو اب جسمانی اور ذہنی طور پر ٹوٹ چکا تھا، ان دو آدمیوں کے سہارے چل رہا تھا جن کی زندگی اس نے خطرے میں ڈالی تھی۔ کوئی بات نہیں ہوئی، صرف زندہ رہنے کی مشترکہ کوشش تھی۔
کئی دن بعد، جب وہ دیوسائی کے میدانوں کے کنارے پر تقریباً بے ہوش پڑے تھے، انہیں پارک رینجرز کے ایک گشتی دستے نے ڈھونڈ لیا۔ وہ تھکے ہوئے تھے، فراسٹ بائٹ کا شکار تھے، لیکن زندہ تھے۔
زرار نے آخری بار ان دور دراز چوٹیوں کی طرف دیکھا۔ اسے کوئی خزانہ نہیں ملا تھا، لیکن اس نے اپنے ضمیر کا بوجھ اتار دیا تھا۔ اس نے ایک پہاڑ فتح نہیں کیا تھا، اس نے ایک جان بچائی تھی۔ شیتوس کا راز برف اور ہوا میں محفوظ رہا، اور پہاڑ نے اپنا دل اپنے پاس ہی رکھا۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔
