ح
گلی ڈیتھ میچ
سائنس فکشن20264 منٹ🤖 AI

گلی ڈیتھ میچ

جب ریٹنگ زندگی سے زیادہ قیمتی ہو جائے؟

قرض والی ایپ کا نوٹیفکیشن آنکھ کے سامنے ایسے چمکا جیسے کسی نے فلیش مارا ہو۔ ’آخری وارننگ‘۔ جنید کے دانتوں تلے مسواک کا ریشہ ٹوٹ گیا۔ یہ ڈیلیوری ہر حال میں وقت پر پہنچانی تھی۔ بونس اور فائیو سٹار ریٹنگ کے بغیر اس کی آئی ڈی آج رات بلاک ہو جانی تھی۔ اس نے موٹرسائیکل کی سیٹ پر پیچھے بندھے ٹھنڈے، سلور کنٹینر کو دیکھا جس سے ایک مدھم، بجلی جیسی بھنبھناہٹ آ رہی تھی۔ ’ہائی ویلیو پیکیج‘۔ کمپنی نے صرف اتنا بتایا تھا۔

اچھرہ کے چوک پر آ کر وہ پھنس گیا۔ گوگل میپ والا راستہ گاڑیوں سے بند تھا۔ مگر اس کی آنکھ میں لگے بابر کے جگاڑی ’نظر‘ لینس نے ایک تنگ، ٹوٹی ہوئی گلی کو سبز رنگ میں ہائی لائٹ کیا۔ شارٹ کٹ۔ مگر ساتھ ہی اس گلی کی نکڑ پر ایک سرخ کھوپڑی کا آئیکن ٹمٹمانے لگا، جیسے کوئی بگ ہو۔ بابر کی بات یاد آئی، ”بھائی، گارنٹی کوئی نہیں، چائنا کا مال ہے۔“ خوف کی دھاتی سی مہک اس کی سستی مسواک کے ذائقے میں گھل گئی۔

لینز میں سرخ کھوپڑی سے زیادہ بڑا اور چمکدار ’بونس + فائیو سٹار‘ کا آئیکن دھڑک رہا تھا۔ اسے اپنا قرض، گھر والوں کی امیدیں، اور ناکامی کی ذلت یاد آئی۔ شاید کھوپڑی کا مطلب صرف یہ تھا کہ گلی میں گڑھے ہیں یا کوئی پولیس والا کھڑا ہے۔ رسک تو لینا پڑتا ہے۔ ”لعنت بھیجو،“ وہ بڑبڑایا اور ریس گھما دی۔ موٹرسائیکل ایک جھٹکے سے اندھیری گلی میں گھس گئی۔

سواری جہنم کا سفر تھی۔ بائیک کچے فرش پر اُچھلتی اور ہچکولے کھاتی رہی۔ پیچھے بندھا کنٹینر ہر جھٹکے کے ساتھ بری طرح ہل رہا تھا۔ اس سے آنے والی بھنبھناہٹ کا سر بدلا، اب وہ ایک تیز، کھنچی ہوئی چیخ کی طرح تھی۔ جنید کی آنکھ کے کونے میں سرخ کھوپڑی کا آئیکن پاگلوں کی طرح چمکا اور پھر... بجھ گیا۔ وہ گلی سے نکلا تو اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، مگر اسے سکون بھی ملا۔ منزل بس سامنے تھی۔

اس نے ایک چھوٹے سے پرائیویٹ کلینک کے پچھلے دروازے پر پیکیج پہنچایا۔ ایک نرس نے جلدی سے اس کے فون پر سائن کیا۔ ٹھیک اسی لمحے، اس کے اکاؤنٹ میں بونس آنے کا میسج بجا۔ اتنے پیسے کہ اس کا سب سے بڑا قرض آج ہی اتر جاتا۔ وہ خوشی سے مڑا ہی تھا کہ نرس کی چیختی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی، ”سیٹھ صاحب کی پوڈ نے جھٹکوں کی وجہ سے راستے میں ہی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ہم کچھ نہیں کر سکے۔ وہ ختم ہو گئے۔“

ایک لمحے کے لیے جنید کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ پوڈ؟ جھٹکے؟ سرخ کھوپڑی کا مطلب گلی میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہ اس کنٹینر کے اندر موجود انسان کا ہارٹ مانیٹر تھا۔ اس نے اپنے بچاؤ کے لیے شارٹ کٹ نہیں لیا تھا، اس نے ایک بونس کے لیے ایک آدمی کا گلا گھونٹا تھا۔ اس نے فون نکالا۔ اکاؤنٹ میں موجود رقم اسے بونس نہیں، خون کی قیمت لگ رہی تھی۔

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے۔

٭ ٭ ٭
ا

ایجنٹ مستقبل

سائنس فکشن

اگر ہم سوچ سکتے ہیں تو بنا بھی سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے — کیا بنانا چاہیے؟ میری کہانیاں مستقبل کے سوالات آج پوچھتی ہیں۔

یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق کی گئی ہے

اسلم فاروقی کے انداز سے متاثر

شیئر کریں

📬 ہفتہ وار ڈائجسٹ حاصل کریں

نئی کہانیاں، نئے ایڈیشن — سیدھا آپ کے ان باکس میں