اسکرین پر پانچ ہزار کا گلابی نوٹیفیکیشن چمکا، اور زیاد کے گلے میں جھوٹ اٹک گیا۔
یہ ’مہر بانو اٹھاسی‘ تھی۔ اس کا سب سے بڑا ڈونر۔ ایک گمنام آواز کا بے نام پجاری۔ زیاد کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ڈیجیٹل عقیدت، جس پر اس کے گھر کا یو پی ایس چل رہا تھا، اسی لڑکی کی طرف سے آ رہی تھی جو ہر صبح آرکیٹیکچر کی کلاس میں اس سے دو قطار آگے بیٹھتی تھی۔ وہی مہر، جو اپنی نوٹ بک کے حاشیوں پر ایسی عمارتوں کے نقشے بناتی تھی جو کششِ ثقل کے اصولوں کو ٹکا سا جواب دے دیتی تھیں۔
زیاد نے پانی کی بوتل اٹھائی اور اس کے کاغذی لیبل کو ناخنوں سے کھرچنے لگا۔ ’شاہین‘ کے اوتار کے پیچھے سے وہ کچھ بھی کہہ سکتا تھا۔ وہ ایک گمنام سائبر دوست تھا، ایک کرائے کا ہمدرد جس کی آواز ماڈیولیٹر سے گزر کر ایسی بھاری اور پرسکون ہو جاتی تھی کہ سننے والے اپنے دکھ اس پر انڈیل دیتے تھے۔ اور بدلے میں، ’سپر چیٹ‘ کے ذریعے پیسے بھی۔
اس رات بھی مہر بانو نے اپنی تنہائی کا ذکر کیا۔ ”شاہین، کبھی کبھی لگتا ہے میں ایک امپوسٹر ہوں۔ سب کو لگتا ہے میری لائف کتنی پرفیکٹ ہے، لیکن اندر سے سب کھوکھلا ہے۔“ زیاد نے سستی انسٹنٹ کافی کا ایک اور گھونٹ بھرا، اس کی کڑواہٹ حلق میں محسوس ہوئی۔ یو پی ایس کا شور پس منظر میں مسلسل گونج رہا تھا۔ ”تم کھوکھلی نہیں ہو، مہر بانو، تم صرف تھک گئی ہو،“ اس نے اپنی ماڈیولیٹڈ آواز میں کہا، اور ساتھ ہی ایک اور ہزار روپے کے نوٹیفیکیشن کا ڈیجیٹل گھنگرو بجا۔
اگلے دن یونیورسٹی کیفیٹیریا میں مہر اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ زیاد ہمت کر کے اس کی میز کے پاس سے گزرا۔ ”وہی ڈیزائنر ہینڈ بیگ... وہی پرفیکٹ بال...“ اس نے سوچا۔ اس کی آنکھوں کے گرد ہلکی سی تھکن تھی، جو شاید زیاد کے علاوہ کسی نے نوٹ نہ کی ہو۔ زیاد نے سنا، وہ اپنی دوست کو بتا رہی تھی کہ اس مہینے وہ ٹرپ پر نہیں جا سکتی، ”کچھ فیملی ایشوز ہیں۔“ یہ جھوٹ بھی اتنا ہی پالش تھا جتنا اس کا پہناوا۔
شک کا بیج شک نہیں رہا، ایک مضبوط درخت بن چکا تھا۔ اس رات اسٹریم پر زیاد نے، یعنی ’شاہین‘ نے، ایک جال بچھایا۔ ”کبھی کبھی انسان کو بس لاہور کی پرانی گلیوں میں نکل جانا چاہیے، جیسے بچپن میں ہم جاتے تھے۔ خاص طور پر وہ ایک چھوٹی سی حلوہ پوری کی دکان...“ اس نے ایک فرضی دکان کا نام لیا۔
کمنٹ سیکشن میں ’مہر بانو اٹھاسی‘ کا جواب فوراً آیا۔ ”سچ میں؟ مجھے بھی وہ جگہ بہت پسند تھی۔ بچپن کی یادیں...“ زیاد کا دل ڈوب گیا۔ یہ وہی کہانی تھی جو مہر نے پچھلے ہفتے کلاس میں اپنی دوست کو سنائی تھی۔ یہ وہی تھی۔ اور وہ اپنی ساری جمع پونجی، شاید ادھار لیے ہوئے پیسے، اس کی آواز پر لٹا رہی تھی۔
اسی لمحے اس کے والد کا فون آیا۔ ”بیٹا، امی کی دوائیوں کے لیے کچھ پیسوں کی ضرورت پڑے گی۔“ زیاد نے فون بند کیا، اسکرین پر مہر کے بھیجے ہوئے نوٹوں کی گلابی چمک دیکھی اور پھر لائبریری کی کھڑکی سے نظر آتی مہر کی جھلک کو یاد کیا۔ اس نے فیصلہ کر لیا۔ یہ راز، راز ہی رہے گا۔ وہ اس کی قیمت بعد میں چکا دے گا، جب وہ قابل ہو جائے گا۔ جب مہر اسے زیاد کے طور پر جاننے لگے گی، شاہین کے طور پر نہیں۔ اس نے بوتل کا لیبل پوری طرح چھیل کر پھینک دیا۔
اگلے ہفتے اس نے لائبریری میں مہر کو ’اتفاق سے‘ روکا۔ ”تمہارے نوٹس میں یہ جو امپاسیبل بلڈنگز بنی ہیں، یہ بڑی دلچسپ ہیں۔“ مہر چونکی، پھر مسکرائی۔ ”کوئی سمجھتا نہیں ان کو۔“ زیاد نے جواب دیا، ”میں سمجھتا ہوں۔ کبھی کبھی سب سے خوبصورت چیزیں وہی ہوتی ہیں جو اصولوں کو چیلنج کرتی ہیں۔“ یہ جملہ اس نے پچھلی رات شاہین بن کر مہر سے ہی سنا تھا۔
یہ کام کر گیا۔ ایک تعلق بننے لگا۔ وہ کیفے میں ملنے لگے، کیمپس کے لان میں ساتھ چلنے لگے۔ ہر ملاقات سے پہلے زیاد اپنی ’شاہین‘ والی چیٹ ہسٹری ایسے پڑھتا تھا جیسے امتحان کی تیاری کر رہا ہو۔ مہر کی پسندیدہ فلم، اس کا چھپا ہوا ڈر، اس کا بچپن کا خواب... زیاد کو سب معلوم تھا۔ مہر حیران تھی کہ اسے کوئی اتنا کیسے سمجھ سکتا ہے۔
یہ سب رمیز سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ وہ، جو اپنے نقلی برانڈڈ جوتوں پر اصرار کرتا تھا کہ اصلی ہیں، اسے زیاد ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ”یہ مڈل کلاس لڑکا... مہر کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟“ اس نے ایک دن اپنے دوست سے کہا۔ ”دال میں کچھ کالا ہے۔ کل تک جو لڑکی اسے دیکھتی تک نہیں تھی، آج کل ہر وقت اسی کے ساتھ ہوتی ہے۔“ رمیز کی حسد بھری نظریں ان کا پیچھا کرنے لگیں۔
رمیز نے جاسوسی شروع کی۔ اس نے نوٹ کیا کہ جب بھی مہر پریشان ہوتی، وہ رات کو آنلائن ہوتی اور اگلے دن اس کے اکاؤنٹ میں پیسے آتے تھے۔ اس نے ’شاہین‘ کے اسٹریمز دیکھنا شروع کر دیے۔ وہ آواز... وہ ماڈیولیٹڈ تھی، لیکن لہجے اور الفاظ کے انتخاب میں کچھ جانا پہچانا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔
پھر اسے وہ ٹول ملا۔ ایک اوپن سورس AI وائس کلوننگ سافٹ ویئر۔ اس نے شاہین کے گھنٹوں کے اسٹریمز ڈاؤنلوڈ کیے اور انہیں AI کو کھلا دیا۔ اس نے زیاد کی کلاس پریزنٹیشن کی ایک ریکارڈنگ بھی کہیں سے ڈھونڈ نکالی۔ چند گھنٹوں کی پراسیسنگ کے بعد، مشین نے شاہین کی ماڈیولیٹڈ آواز اور زیاد کی اصلی آواز کے بیچ کا پل بنا دیا۔
اگلی صبح یونیورسٹی کے گوسپ پیج پر ایک ویڈیو پوسٹ ہوئی۔ اس میں شاہین کا اینیمے اوتار تھا، لیکن آواز... آواز صاف، بغیر ماڈیولیشن کے، زیاد کی تھی۔ AI سے کلون کی گئی آواز کہہ رہی تھی: ”ہاں یار، وہ مہر بانو... آرکیٹیکچر والی؟ امیر زادی ہے، باپ کا پیسہ ہے۔ بس دو چار میٹھی باتیں کرو اور ہزاروں کے نوٹ پھینکتی ہے۔ اس کو بے وقوف بنانا دنیا کا سب سے آسان کام ہے۔“
ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر موبائل فون پر وہی کلپ چل رہا تھا۔ زیاد کا چہرہ، اس کی آواز، شاہین کا اوتار... سب گڈمڈ ہو گیا۔ وہ پھنس چکا تھا۔ اگر وہ کہتا کہ یہ ڈیپ فیک ہے، تو اسے ماننا پڑتا کہ شاہین وہی ہے۔ اور اگر وہ مان لیتا کہ شاہین وہی ہے، تو ویڈیو میں کہی گئی گھناؤنی بات خود بخود سچ لگنے لگتی۔ اس کا انکار کرنا ہی اس کا جرم قبول کرنا تھا۔
مہر نے اسے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پر روکا۔ اس کے ہاتھ میں فون تھا، آنکھیں سرخ تھیں۔ اس کے چہرے پر دکھ نہیں، شدید نفرت تھی۔ وہ کچھ بولی نہیں، بس اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ کوئی کیڑا ہو۔ اس ایک نظر نے زیاد کو اندر تک توڑ دیا۔ اس کی بنائی ہوئی پوری دنیا، جھوٹ کی وہ خوبصورت عمارت، ایک ہی لمحے میں ڈھیر ہو گئی۔
لیکن طوفان ابھی باقی تھا۔ مہر نے جن آنلائن لون ایپس سے ادھار لے کر شاہین پر لٹایا تھا، ان کے ریکوری ایجنٹس نے اس کا نمبر اور تصویریں اس کے سارے کانٹیکٹس کو بھیجنا شروع کر دیں۔ ”یہ لڑکی فراڈ ہے، اس نے قرض لیا ہے اور واپس نہیں کر رہی۔“ اس کی عزت، اس کی پرائیویسی، سب کچھ نیلام ہو گیا۔ اس کا بنایا ہوا امیج، اس کا کھوکھلا خول، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
زیاد کا چینل بند ہو گیا۔ اسے یونیورسٹی سے بھی شاید نکال دیا جاتا۔ رمیز نے اپنا دشمن تو راستے سے ہٹا دیا تھا، لیکن مہر نے اس کی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ اس کھیل میں کوئی نہیں جیتا۔ سب ہار گئے۔
کئی ہفتے گزر گئے۔ ایک خاموش، تکلیف دہ سناٹا۔ پھر ایک رات زیاد کے فون پر ایک نوٹیفیکیشن آیا۔ یہ کسی سپر چیٹ کا گلابی رنگ نہیں تھا، نہ ہی کسی دوست کا میسج۔ یہ ایک پیمنٹ ریکوسٹ تھی۔ بھیجنے والی مہر تھی۔
رقم لکھی تھی: ایک لاکھ چھیالیس ہزار پانچ سو روپے۔ ایک ایک روپے کا حساب۔ جو اس نے ’شاہین‘ کو بھیجا تھا۔ نیچے صرف دو لفظ لکھے تھے:
”پیسے واپس کرو۔“
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائی گئی ہے
