”پچاس لاکھ، نورین۔ کل شام تک، ورنہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔“
آواز واٹس ایپ پر ایک گونج کی طرح آئی اور ختم ہو گئی۔ فون نورین کے ہاتھ سے پھسل کر صوفے پر گر پڑا۔ کمرے میں صرف سولر انورٹر کی مسلسل بھنبھناہٹ تھی۔ ایک ایسی آواز جو اب اس کے گھر کا حصہ تھی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔ کاشف کو واپس کال کرنے ہی لگی تھی کہ ایک اور میسج کی گھنٹی بجی۔ اسی کے نمبر سے۔ ایک اور وائس نوٹ۔
اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پلے کا بٹن دبایا۔ وہی کاشف کی آواز تھی، مگر پرسکون۔ ہنس رہی تھی۔ ”نورین جان، پریشان نہ ہونا۔ آج کل یہاں AI والے فراڈ بہت چل رہے ہیں۔ کوئی میری آواز استعمال کر کے تمہیں ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، سائٹ پر ہوں۔“
ایک شوہر۔ دو آوازیں۔ ایک موت کی دھمکی دے رہی تھی۔ دوسری ہنس رہی تھی۔ فون اس کے ہاتھ میں ایک بم کی طرح محسوس ہو رہا تھا جس کی سوئی کسی بھی طرف گر سکتی تھی۔
اس نے پہلا پیغام دوبارہ سنا۔ کھانسی کی آواز، سانسوں کا اتار چڑھاؤ، لفظوں کے پیچھے چھپی دہشت۔ یہ سب حقیقی لگ رہا تھا۔ اتنا حقیقی کہ اس کی اپنی سانسیں رکنے لگیں۔
پھر اس نے دوسرا پیغام چلایا۔ بے فکری، اپنائیت، وہی لہجہ جو وہ آٹھ سال سے سنتی آ رہی تھی۔ لیکن کچھ تھا جو کھٹک رہا تھا۔ آواز بہت صاف تھی۔ بالکل ہموار۔ جیسے کسی نے ندی کے سارے پتھر ہٹا دیے ہوں۔
اسی وقت اس کے بھائی کا فون آ گیا۔ ”کاشف بھائی کی نئی گاڑی کی تصویر دیکھی۔ کیا بات ہے! اللہ نظرِ بد سے بچائے۔ تم قسمت والی ہو نورین۔“ فخر کی ایک لہر اس کے اندر اٹھی اور خوف سے ٹکرا گئی۔
اس نے دانت بھینچ کر جواب دیا۔ ”جی بھائی، اللہ کا شکر ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اب پلاٹ پر کام شروع کروانا ہے۔“ الفاظ اس کے منہ میں راکھ کی طرح محسوس ہوئے۔
اسے کاشف کی ایک پرانی عادت یاد آئی۔ جب بھی وہ جھوٹ بولتا تھا، اس سے پہلے گلا صاف کرتا تھا۔ ایک ہلکی سی کھنکار۔ اس نے پرانے وائس نوٹ کھنگالنے شروع کر دیے۔ ہاں، یہ رہی۔ پچھلے سال جب اس نے ’بونس‘ کا بہانہ کر کے پیسے بھیجے تھے، پیغام کے شروع میں وہی کھنکار تھی۔
اس نے دونوں نئے پیغامات پھر سے سنے۔ خوفزدہ آواز والے پیغام میں وہ گھبراہٹ بھری کھنکار موجود تھی۔ پرسکون، ہنستے ہوئے پیغام میں کچھ نہیں تھا۔ وہ بالکل صاف تھا۔ ٹی وی پر AI فراڈ کی ساری خبریں اس کے ذہن میں گھوم گئیں۔ فراڈیے ہمیشہ خوفناک پیغام ہی تو بھیجتے ہیں۔
تو خوفناک پیغام ہی نقلی ہے۔ ایک ٹھنڈی سی راحت کی لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ مگر دل کے کسی کونے میں شک کی ایک پھانس اٹکی رہی۔
اسی لمحے جمشید کا میسج آیا۔ کاشف کا کزن جو شارجہ میں ہی تھا۔ ”نورین بھابھی، کاشف بھائی کا فون نہیں مل رہا۔ سب خیریت؟“ اس کا ’آپ‘ کہہ کر مخاطب کرنا ہمیشہ نورین کو عجیب لگتا تھا۔ جیسے عزت کی دیوار کے پیچھے کچھ چھپا رہا ہو۔
نورین نے فوراً اسے فون کیا۔ جمشید نے پہلی ہی گھنٹی پر اٹھا لیا۔ ”بھابھی، آپ فکر نہ کریں۔ کاشف میرے ساتھ ہی تھا۔ ابھی ایک دوسری سائٹ پر نکل گیا ہے۔ یہ سب فراڈ ہے۔ آپ کسی کو پیسے نہ بھیجنا۔“
اس کی کہانی بہت صاف تھی۔ بہت مکمل۔ اس نے نورین کے شک کو یقین میں بدلنے کی پوری کوشش کی۔ مگر اس کا لہجہ رٹا ہوا لگ رہا تھا۔ نورین کے ذہن میں ایک کہاوت گونجی۔ ’بغل میں چھری، منہ میں رام رام‘۔
اس نے فون بند کر دیا۔ فیصلہ ہو چکا تھا۔ ایک ایسا فیصلہ جو خوف اور عزت کے دباؤ میں کیا گیا تھا۔ وہ پلاٹ بیچ دے گی۔ پیسے ہاتھ کا میل ہیں۔ کاشف کی عزت، ان کی کامیابی کی کہانی، سب کچھ تھی۔
اس نے پراپرٹی ڈیلر کو فون کیا۔ ”ایمرجنسی ہے۔ آج ہی سودا کرنا ہے۔“ ڈیلر موقع سمجھ گیا۔ پچاس لاکھ کا پلاٹ پینتالیس میں طے ہوا۔ ایک اور دھچکا۔
پھر اس نے کاشف کو ایک مختصر پیغام بھیجا۔ ”پلاٹ بیچ رہی ہوں۔ کاغذات میں ایک دن لگے گا۔“ یہ جھوٹ تھا۔ مزید چوبیس گھنٹے کا وقت لینے کے لیے ایک چھوٹی سی چال۔
اس کے بعد اس نے فون بک کھولی۔ ایک دور کے کزن، اسلم کا نمبر نکالا، جو وہیں شارجہ میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ ایک سادہ سا پیغام لکھا۔ ”اسلم بھائی، کاشف سے بس مل کر خیریت بتا دیں۔ اس کا فون نہیں مل رہا۔“
کچھ گھنٹوں بعد بینک کا الرٹ آیا۔ پینتالیس لاکھ اس کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکے تھے۔ گھر کی خاموشی میں فون کی یہ ہلکی سی آواز ایک دھماکے کی طرح لگی۔
اس نے وہ ساری رقم اس اکاؤنٹ میں ڈال دی جو جمشید نے ’کاشف کے ایمرجنسی اکاؤنٹ‘ کے نام پر بھیجا تھا۔ ’کنفرم‘ کے بٹن پر اس کی انگلی کانپ رہی تھی۔
پیسے جا چکے تھے۔ ایک کام مکمل ہوا۔ وہ صحن میں نکل آئی۔ سوکھے ہوئے گلاب کے پودے پر ایک آخری، مرجھائی ہوئی کلی لگی تھی۔ ہوا میں سیمنٹ کی تیز بو پھیلی ہوئی تھی۔
اس کا فون بجا۔ ایک انجان اماراتی نمبر۔ اسلم تھا۔
”نورین؟ میں اسلم۔ میں کاشف کے ساتھ ہوں۔ وہ ٹھیک ہے۔“ ایک لمحے کا وقفہ آیا۔ ”یعنی، زندہ ہے۔“
اسلم کی آواز میں ہمدردی تھی۔ اس نے سب کچھ بتا دیا۔ کوئی اغوا نہیں ہوا۔ کوئی دھمکی نہیں تھی۔ بس جمشید کا آن لائن سٹے بازی کا اڈا اور پچاس لاکھ کا قرض تھا۔ کاشف اس کے پاس بیٹھا رو رہا تھا۔
”اس نے خود بتایا،“ اسلم نے آہستہ سے کہا۔ ”اس نے ڈر کے مارے آپ کو پہلا میسج بھیجا۔ پھر جب آپ کا جواب نہیں آیا تو اس نے خود ہی AI سے دوسرا، خوش باش میسج بنا کر بھیجا تاکہ آپ پریشان نہ ہوں اور اس کا بھرم رہ جائے۔“
نورین وہیں فرش پر ڈھیر ہو گئی۔ انورٹر کی بھنبھناہٹ اب ایک چیخ کی طرح لگ رہی تھی۔ پرسکون آواز جھوٹ تھی۔ بے عیب آواز ایک دھوکا تھی۔ اس کی اصلی، خوفزدہ، خامیوں بھری آواز... وہی سچ تھی۔
آٹھ سال۔ وائس نوٹس اور اسکرین شاٹس پر بنائی گئی ایک زندگی۔ اس نے ایک وہم سے شادی کی تھی۔
فون کی اسکرین اب سیاہ تھی۔ پیسہ جا چکا تھا۔ گلاب کی آخری پتی بھی ٹوٹ کر مٹی میں مل چکی تھی۔ اسے آج سمجھ آیا کہ کاشف کے لفظوں کے درمیان جو خاموشی تھی، وہ ہمیشہ وہیں رہتا تھا۔
یہ کہانی مصنوعی ذہانت (AI) سے لکھی گئی ہے۔
